The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں آنے کا کوئی امکان نہیں، مشیر خزانہ

اسلام آباد: مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے پر عائد کردہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں، پاکستان کا فنانشل ایکشن ٹاکس فورس( ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں آنے کا کوئی امکان نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم نے ایف اے ٹی ایف کو تحریری طور پر آگاہ کیا، اقدامات بھی کیے، خواجہ آصف کے ساتھ کئی ممالک کا دورہ کر کے اپنا موقف واضح کیا، ہم نے دنیا پر واضح کر دیا  دہشت گرد گروپس پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں۔

امریکی کوششیں ناکام، پاکستان کانام دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے والے ممالک میں شامل نہیں

انہوں نے کہا کہ ہم نے اے ایف ٹی ایف حکام کو آگاہ کیا ہے کہ ہمیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے، عملی میدان میں ہمیں بہت مسائل کا سامنا ہے، ادارے کو تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا، ان کا مقصد دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا ہے، ہم نے تحریری طور یقین دہائی کرا دی ہے، ایکشن پلان بھی تیار کر رہے ہیں جو مارچ سے مئی کے درمیان بھجوا دیں گے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 2008 سے 2010 تک بلیک لسٹ کیا گیا تھا، بعد ازاں 2012 سے 2015 تک دوبارہ بلیک لسٹ میں رکھا گیا، ماضی میں پاکستان کو گرے لسٹ میں بھی ڈالا گیا، بھارت امریکا کا گٹھ جوڑ کا مقصد پاکستان کو ہر صورت دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کے لیے سرگرم

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کا ممبر نہیں البتہ اس کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ضرور ہے۔

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف 1989 میں‌ قائم ہونے والا ایک بین الحکومتی ادارہ ہے، جس کے ارکان کی تعداد 35 ہے، جن میں امریکا، برطانیہ، چین، انڈیا اور دیگر شامل ہیں، البتہ پاکستان تنظیم کا رکن نہیں ہے۔

اس ادارے کا مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے جامع اور مربوط قانونی اور عملی اقدامات کرنا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں