ضمانت پررہائی پانے والےمفتی عبدالقوی کے دل میں جیل میں قیدیوں کیلئے ہمدردی جاگ اٹھی
The news is by your side.

Advertisement

مفتی عبدالقوی کے دل میں جیل میں قیدیوں کیلئے ہمدردی جاگ اٹھی

ملتان : قندیل بلوچ قتل کیس میں جیل یاترا کے بعد ضمانت پررہائی پانے والےمفتی عبدالقوی کے جیل میں قیدیوں کی ہمدردی جاگ اٹھی، انکا کہنا ہے کہ قیدیوں کے مسائل حل کرنے کےلئے پانچ نکاتی ایجنڈا اور مجلس عاملہ بناؤں گا، قندیل بلوچ قتل کیس میں بے گناہ ہوں۔

تفصیلات کے مطابق قندیل بلوچ قتل کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد اپنے مدرسے میں مفتی عبدالقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں پرسکون نیند آئی، قیدیوں کے معاملات کےلئے پانچ نکاتی ایجنڈا بنا رہاہوں۔

مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ کیس میں عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی مجھے منظور ہوگا، جب چالان مکمل ہوگا،ہر چیز واضح ہوجائے گی، پنجاب پولیس چالان مکمل کرے، پولیس میں تعلیم یافتہ لوگ بھرتی ہورہےہیں۔

انھوں نے کہا کہ قندیل بلوچ قتل کیس کو 17 ماہ ہوگئے لیکن پولیس ابھی تک مکمل چالان پیش نہیں کرسکی، واضح کیس کو کسی اور جانب لےجانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔


مزید پڑھیں : مفتی عبدالقوی سینٹرل جیل ملتان سے ضمانت پر رہا


مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ انکے پاس ایک کروڑ روپےہیں ہی نہیں تو کسی کو پیش کش کیسے کرسکتاہوں ،، سعودی عرب سے آنیوالی کالز کو ملزم اسلم شاہین سے جوڑا جارہا ہے، تاہم عدلیہ کے فیصلے پر اعتماد ہے حق کا بول بالا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ختم نبوت کےنام پر جن کے بڑے چندہ کھاتے رہے آج انکی اولادیں اسی قانون میں ترمیم پر خاموش ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم مفتی عبدالقوی کو ستائیس روز بعد سینٹرل جیل ملتان سے ضمانت پر رہا کیا تھا۔

خیال رہے کہ مفتی عبدالقوی کو انیس اکتوبر کو عبوری ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پرعدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔


مزید پڑھیں: قندیل بلوچ قتل کیس، مفتی عبدالقوی کو گرفتارکر لیا گیا


واضح رہے معروف ماڈل اور ممتاز شوبز شخصیت قندیل بلوچ کو اُن کے گھر واقع ملتان میں قتل کردیا گیا ،قندیل بلوچ اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئیں تھیں کہ رات سوتے ہوئے اُن کے بھائی نے وسیم نے گلا دبا کر قندیل بلوچ کو ہلاک کرکے گاؤں فرار ہو گیا تھا جہاں پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں