The news is by your side.

Advertisement

لوگ جتھوں کی صورت میں مویشی منڈی کا رخ نہ کریں، مفتی منیب الرحمان

کراچی : چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ انسانی تاریخ میں کوئی ایسا دور نہیں آیا کہ کسی وبا نے پورے عالم انسانیت کا احاطہ کرلیا ہو، لوگ جتھوں کی صورت میں مویشی منڈی کا رخ نہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے عیدالاضحیٰ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہآن لائن پیسے دینے سے قربانی نہیں ہوتی ، قربانی ایک عبادت ہے۔

مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ کوروناکی وجہ سے قربانی کا جانور خریدنے کیلئے لوگ بچوں کو منڈیوں میں لیکر نہ جائیں اور گلی محلوں میں قربانی کے جانوروں کی نمائش نہ کی جائے۔

چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ انسانی تاریخ میں کوئی ایسا دور نہیں آیا کہ کسی وبا نے پورے عالم انسانیت کا احاطہ کرلیا ہو، اسی وباکے دوران ہماری قربانی کی عبادت بھی آررہی ہے، ماضی میں لوگ قربانی کا جانورخریدنے جاتے تھےتو ایک میلے کا سماں ہوتاتھا اور ایک جانورکوخریدنے کیلئےپورا خاندان پورا محلہ چل پڑتاتھااب ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کےشہری مویشی منڈی کے آرگنائزریاوررضا چاولہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں مزاحمت نہ کریں ، لوگ جتھوں کی صورت میں مویشی منڈی کا رخ نہ کریں، ایک جانور کو خریدنے کیلئے ایک دوافراد کافی ہیں وہ جائیں اور جانورخرید کرلےآئیں۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ اس میں سب کافائدہ سب کاتحفظ اور ہماری دینی،ملی اور قومی ذمہ داری ہے، ایک ذمہ دار شہری کی طرف سے ان ایس اوپیز پر عمل کرنا ہمارا فرض بھی ہے۔

دوسری جانب علامہ شہنشاہ نقوی کا کہنا تھا کہ عید قرباں سے متعلق تیاریوں کاآغازہوچکاہے، اس سال مویشی منڈی کاانعقاد بھی پچھلے سال سے مختلف ہے ، عیدالضحی پرقربانی کرناقربت اللہ ہےآپ کی گائے، بیل اور بکرا نہیں صرف نیت اوپر جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مویشی منڈی آنےوالوں کے چہرے پر نہیں لکھاکہ کون بیمارکون صحتیاب ہے، اس لئے احتیاط کریں ، کراچی والوں سے گزارش ہے بچوں ، خواتین، بوڑھے اورپہلے سےبیمارافرادمویشی منڈی کارخ نہ کریں۔

علامہ شہنشاہ نقوی نے مزید کہا کہ ایس اوپیز پرعمل کرنااوران سے پرہیزکراناہماری ذمہ داری ہے ، اتنظامیہ زورزبردستی کرے ، ڈنڈے مارے یہ اچھا نہیں لگتا ہماراکام ہے کہ ایس اوپیزپرعمل کریں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں