The news is by your side.

Advertisement

تمام جید علماء رویت ہلال کمیٹی پر متفق ہیں، دین آئین کے تابع نہیں، مفتی منیب الرحمٰن

وزیراعلیٰ کے پی مسجد قاسم علی خان کو پوراصوبہ نہ سمجھیں، دین کی سربلندی قائم رہے گی، پریس کانفرنس

کراچی : رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ تمام جید علماء کرام کا رویت ہلال کمیٹی پر اتفاق ہے، کچھ وزراء علماء کرام اور حکومت میں خلیج پیدا کررہے ہیں، دین آئین کے تابع نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خظاب کرتے ہوئے کیا، مفتی منیب الرحمن نے خیبر پختوخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک میں انتشار پیدا کرنا نہیں چاہتے۔ وزیراعلیٰ کے پی مسجد قاسم علی خان کو پوراصوبہ نہ سمجھیں، کیا اس کے لئے پورا صوبہ خارج کریں گے؟

پہلے بھی کے پپی میں کئی وزرائے اعلیٰ گزرے ہیں، محمود خان پہلے نہیں، پہلے وزرائےاعلیٰ نے کبھی چاند کی رویت کے معاملے پر ملکی سطح پر مذاق نہیں بنایا، جنرل فضل الحق جیسے وزیراعلیٰ نے بھی قوانین سے روگردانی نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں رویت ہلال کے مسئلہ پرعلماء کرام کو نظربند کیا گیا مگر دین کو نظربند نہیں کیا جاسکتا اس کی سربلندی قائم رہےگی۔ اٹھارہویں ترمیم ہو یا اٹھائسویں ترمیم سب دین کے تابع ہیں۔

کچھ وزراء علماء کرام اورحکومت میں خلیج پیدا کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پی شوکت یوسفزئی سن لیں کہ دین آئین کےتابع نہیں ہے، تمام جید علماء کرام کا رویت ہلال کمیٹی پر اتفاق ہے۔

مفتی منیب الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ علماء کرام کے بغیر ملکی تاریخ میں کبھی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوئی، پاکستان میں علماء کہیں بھی حکومت کے خلاف مورچہ زن نہیں، ہم حکومت سے محاذآرائی نہیں چاہتے۔

ملک کے تحفظ اور سلامتی کیلئے کھڑا ہونا چاہتے ہیں لیکن کچھ حکومتی وزرا حکومت اورعلماء کے درمیان خلیج پیدا کرکے غلط مثالیں قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ قوم اور ملک کو ایک دیکھنا چاہتے ہیں لیکن دین کی قیمت پر ہرگز نہیں، پشاور کا شروع سے یہی وتیرہ رہا ہے۔

28روزے رکھنے والے روز محشر کیا حساب دیں گے؟ہم قدم بہ قدم پاکستان کی تاریخ جانتے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ جس کسی نے رمضان کا روزہ نہیں رکھا اس کا فدیہ نہیں قضا ہے۔

جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہے اس کی صوبائی سطح پرانحراف حیران کن ہے، پشاورمیں بعض مقامات، سوات میں وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع میں بھی کل عید ہوگی، ہم سروں کی گنتی نہیں کرائیں گے، تمام مکتبہ فکر کے علماء کو ایک جگہ جمع کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں