قندیل قتل، ایف آئی آر میں نام نہیں پولیس پھربھی شامل تفتیش کررہی ہے، مفتی عبدالقوی qandil
The news is by your side.

Advertisement

قندیل بلوچ قتل، ایف آئی آرمیں نام نہیں پولیس پھربھی مجھے شامل تفتیش کررہی ہے، مفتی عبدالقوی

ملتان : مفتی عبدالقوی نے کہا کہ قندیل بلوچ کے قتل کوایک سال ہوگیا ہے اورایف آئی آر میں میرا نام نہ ہونے کے باوجود پولیس مجھے زبردستی شاملِ تفتیش کررہی ہے۔

مفتی قوی اپنے ماموں صاحبزادہ ابراہیم ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کررہے تھے انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قتل کو ایک سال ہوگیا ہے لیکن اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی گرفتار ملزمان کو رہا کیا گیا ہے جب کہ آج تک کسی جج نے مجھے نہیں بلوایا ہے لیکن آج ایک سال بعد پولیس پھرسے مجھے شامل تفتیش کر رہی ہے۔

مفتی قوی نے کہا کہ قندیل بلوچ قتل کے بعد 19غیرملکی چینل میرے پاس آئے اور کسی کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی لیکن صرف بی بی سی رپورٹر کی جانب سے مجھ پہ الزام لگانا ناقابل فہم اور بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹر ایک سال قبل انٹرویو کرنے آئی تھیں اورانہیں اس سال یاد آ رہا ہے کہ مفتی قوی نے مجھے چھیڑا بھی تھا اگرایسا ہے تو قندیل کی طرح اس کے پاس بھی کوئی سیلفی بہ طورثبوت تو ہونی چاہیئے تھی۔

ایک سوال کے جواب میں مفتی قوی نے کہا کہ جب میرا نام ایف آئی آر میں ہے ہی نہیں اورنہ ہی قندیل قتل کیس کی کسی ضمنی پٹیشن میں میرا نام ہے تو قانونی طور پرمیں اس تفتیش میں شامل نہیں ہو سکتا اس کے باوجود میں قانون سے تعاون کرنے کو تیا ہوں پولیس جب مجھے بلائے گی میں ضرور حاضر ہوں گا۔

اس موقع پرانہوں نے مقامی پولیس پر الزام لگایا کہ میرے دو موبائلز فونز ابھی تک پولیس کے پاس ہیں جو قندیل بلوچ کے قتل کے بعد سے پولیس نے تحقیقات کے لیے اپنی تحویل میں لے لیے تھے لیکن اب تک واپس نہیں کیے گئے

مفتی قوی نے مزید کہا کہ میں نے اپنے دونوں فونز حاصل کرنے کے لیے ایس پی پنجاب پولیس کو درخواست بھی دی تھی لیکن ابھی تک کوئی سنوائی نہیں ہوئی ہے حیران ہوں ایسا برتاؤ کیوں کیا جا رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں