The news is by your side.

Advertisement

قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم مفتی عبدالقوی دل میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل

ملتان : قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم مفتی عبدالقوی کو گزشتہ رات دل میں تکلیف کے باعث ملتان کے کارڈیولوجی اسپتال منتقل کیا گیا، مفتی عبدالقوی کی ای سی جی،سی بی سی بلڈ اور آرپی ایم ٹیسٹ نارمل آئے۔

تفصیلات کے مطابق قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم مفتی عبدالقوی کی تھانے میں اچانک طبیعت بگڑ گئی، جنہیں فوراً ملتان کے کارڈیولوجی اسپتال منتقل کیا گیا، ڈاکٹرز کے مطابق مفتی عبدالقوی کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال لایا گیا، اسپتال میں مفتی عبدالقوی کی ای سی جی،سی بی سی بلڈ اور آرپی ایم ٹیسٹ کیےگئے، تمام ٹیسٹ کلئیرآئے۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ بلڈ پریشرہائی تھا جو اب نارمل ہے، مفتی عبدالقوی کارڈیولوجی اسپتال کے سی سی یو وارڈ کےبیڈنمبر دو پر ہیں، ٹیسٹ نارمل آنے کے باوجود مفتی عبدالقوی کو آج اسپتال میں رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ مفتی عبدالقوی کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان کی عدالت نے گزشتہ روز چاردن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔


مزید پڑھیں : قندیل بلوچ قتل کیس ، مفتی عبدالقوی 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے


واضح رہے کہ مفتی عبدالقوی درخواست ضمانت خارج ہونے پر احاطہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے، جس کے بعد پولیس نے انھیں جھنگ جاتے ہوئے ہائی وے پولیس کی مدد سے گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس کے مطابق مفتی قوی پر مبینہ طور پر قندیل کے بھائیوں کو قتل کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کی ملاقات کی متنازعہ ویڈیو کے منظر عام پرآنے اور قندیل بلوچ کی جانب سے مفتی عبدالقوی کے لیے سخت بیان بھی سامنے آیا تھا، اسی پس منظر میں قندیل بلوچ کی والدہ نے بھی مفتی عبدلاقوی کو شامل تفتیش کرنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے معروف ماڈل اور ممتاز شوبز شخصیت قندیل بلوچ کو اُن کے گھر واقع ملتان میں قتل کردیا گیا ،قندیل بلوچ اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئیں تھیں کہ رات سوتے ہوئے اُن کے بھائی نے وسیم نے گلا دبا کر قندیل بلوچ کو ہلاک کرکے گاؤں فرار ہو گیا تھا جہاں پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں