The news is by your side.

Advertisement

مفتی تقی عثمانی حملہ، جاں بحق محافظ کے اہل خانہ کو 2 ملازمتیں اور ایک کروڑ فنڈ دینے کی منظوری

کراچی: سندھ کابینہ نے مفتی تقی عثمانی پر حملے کے دوران شہید ہونے والے پولیس اہلکار کو ایک کروڑ روپے اور اہل خانہ کو 2 سرکاری ملازمتیں دینے کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پرول پر رہائی دینے کا اختیار سیکریٹری داخلہ کو تفویض کیا گیا جبکہ مفتی تقی عثمانی پر حملے کے دوران شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل کے اہل خانہ کو 2 سرکاری ملازمتیں اور ورثا کو مزید ایک کروڑ روپے دینے کی منظوری دی۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاق سے کم فنڈز  ملتے رہے تب بھی رقم تنخواہوں میں پوری کی جائے گی، کابینہ نے تھرکول فیلڈ اور گورانو ڈیم کے متاثرین کو بھی معاوضہ دینے کی منظوری دی۔ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ پولیس اہلکار کے نابینا بچوں کو علاج بھی سرکاری خرچ پر کرایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مفتی تقی عثمانی فائرنگ کیس، ایک اور زخمی دم توڑ گیا، تعداد تین ہوگئی

یاد رہے کہ 22 مارچ کو گلشن اقبال کے علاقے میں واقع نیپا چورنگی کے قریب دو گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں سے ایک میں مفتی تقی عثمانی کے محافظ اور ڈرائیور موجود تھے جبکہ دوسری میں مفتی تقی عثمانی اپنی اہلیہ اور دو پوتیوں کے ساتھ موجود تھے۔

فائرنگ کے نیتجے میں محافظ اور ڈرائیور جائے وقوعہ پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ مولانا عامر شہاب جناح اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 3 اپریل کو ددم توڑ گئے تھے۔ فائرنگ کی زد میں آنے والے عامر شہاب جسم کے بالائی حصے پر گولیاں لگی تھیں جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں جناح اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کیا گیا تھا۔

جناح اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے تصدیق کی تھی کہ اسپتال میں پولیس اہلکار صنوبر خان کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مفتی شہاب متعدد گولیاں لگیں، جناح اسپتال کے ڈاکٹر انہیں علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، مفتی شہاب کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

تحقیقات میں پیشرفت

تحقیقاتی ادارں نے مفتی تقی عثمانی پر قاتلانے حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کو فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیجا تھا جس کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ اسلحہ پہلی بار کسی واردات میں استعمال ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت

رپورٹ میں بتایا گیا تھاکہ حملہ آوروں نے واردات میں 2 نائن ایم ایم پستول استعمال کیے، ایک پستول سے 9 جبکہ دوسرے سے 6 گولیاں چلائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے تین 125 سی سی موٹر سائیکلیں استعمال کیں، ملزمان نے مفتی تقی عثمانی کا سنگر چورنگی سے پیچھا شروع کیا اور 16 منٹ تک پیچھے آنے کے بعد نیپا چورنگی کے قریب فائرنگ کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں