اتوار, اپریل 12, 2026
اشتہار

رمضان میں مغل بادشاہوں کی سحری اور افطار

اشتہار

حیرت انگیز

منشی فیض الدّین نے قلعے میں پرورش پائی اور وہیں چھوٹے سے بڑے ہوئے، اور مغل دور کی مٹتی ہوئی ثقافت اور دَم توڑتے ہوئے تمدّن کو محفوظ کر لینے کی آرزو اور شعوری کوشش کی اور ایک تصنیف بعنوان بزمِ آخر یادگار چھوڑی۔ یہ کتاب قلعے کی تہذیب و معاشرت، رسم و رواج اور زبان کا وہ زندہ جاوید مرقع ہے جس کی اہمیت سے انکار کی جرأت نہیں۔

ہندوستان میں مغلوں کی شان و شوکت، قلعہ میں چہل پہل، دربار کی رونق اور تہواروں کا احوال تاریخ کا حصّہ ہے۔ منشی فیض الدّین کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں فنِ آشیزی (کھانا پکانے کے فن) کو خوب ترقی نصیب ہوئی۔ ہندوستانیوں کے سادہ دستر خوان قسم قسم کے پکوانوں سے سجنے لگے اور ماہر باورچی اور طباخ قلعہ اور امراء کے لیے خدمات انجام دینے لگے اور کئی پکوان گھروں میں بھی عام ہوئے۔ رمضان کے مہینے میں سحر و افطار میں بادشاہ اور شاہی خاندان کے لیے کھانے پینے کا خوب اہتمام کیا جاتا تھا۔

اپنی کتاب ’بزمِ آخر‘ میں منشی فیض الدّین دہلوی رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد کا احوال لکھتے ہیں کہ ’بادشاہ نے عالموں‌ سے فتویٰ لے کر توپوں کا حکم دیا۔ ‘ آگے قلعے اور حرم میں رمضان کی خوشی اور بادشاہ کو مبارک باد کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے، ’سب بیگماتیں (بیگمات)، حرمیں (کنیزیں، بیویاں)، سُرتیں (ہشیار عورتیں)، ناموسیں (زنان خانہ)، چپی والیاں (پاؤں دبانے والیاں)، گائنیں (گانے والی عورتیں)، شاہ زادے، شاہ زادیاں مبارک باد کو آئیں۔ تاشے باجے، روشن چوکی (بادشاہ کی سواری کے ساتھ چلتے باجے والے)، نوبت (نقارہ) خانے والیاں مبارکباد بجانے لگیں۔‘

چاند نظر آنے کے بعد نماز کی ادائیگی اور پھر تراویح کا سلسلہ شروع ہوتا جس کے بارے میں منشی صاحب رقم طراز ہیں، ’ وہ عشا کی اذان ہوئی، دیوان خاص میں نماز کی تیاری ہوئی۔ باریدار نے عرض کیا کرامات! جماعت تیار ہے۔ بادشاہ برآمد ہوئے، جماعت سے نماز پڑھی، ڈیڑھ سپارہ قرآن شریف کا تراویحوں (تراویح) میں سنا؛ پھر بیٹھک میں آئے، کچھ بات چیت کی، بھنڈا (حقہ) نوش کر پلنگ پر آرام کیا۔‘

اس کے ساتھ ہی سحری کی تیاری شروع ہوجاتی ہے اور اس کا احوال فیض الدّین دہلوی نے یوں بیان کیا ہے کہ ’ڈیڑھ پہر رات باقی رہی، اندر محل، باہر نقار خانے اور جامع مسجد میں پہلا ڈنکا سحری کا شروع ہوا، سحری کے خاصے کی تیاری ہونے لگی۔ دوسرے ڈنکے پر دستر خوان چننا شروع ہوا۔ تیسرے ڈنکے پر بادشاہ نے سحری کا خاصہ (بادشاہ کے لیے مخصوص کھانا) کھایا۔ اب کھانا پینا موقوف ہوا، روزے کی نیّت کی۔‘

اب مصنّف روزہ داروں کے دن گزارنے کو اس طرح بیان کرتے ہیں، ’صبح ہوئی، نماز پڑھی، درگاہ میں جا کر سلام کر، باہر ہوا خوری کو سوار ہوئے۔ سواری پھر کر آئی، محل میں لوگوں کی کچھ عرض و معروض سنی، دوپہر کو سکھ (آرام) کیا۔‘

سہ پہر کو ہی افطار کا اہتمام شروع ہو جاتا۔ منشی صاحب لکھتے ہیں، ’تیسرا پہر ہوا، محل میں تندور گرم ہوا۔ بادشاہ کے لیے ایک سنہری کرسی شیر کے سے پایوں کی، پشت پر سنہری پھول پتے کٹے ہوئے، مخمل کا گدا نرم نرم اس پر بچھا ہوا، تندور کے سامنے لگی ہوئی ہے۔ بیگماتیں، حرمیں، شاہ زادیاں اپنے ہاتھ سے بیسنی، روغنی، میٹھی روٹیاں، کلچے تندور میں لگا رہی ہیں، بادشاہ بیٹھے سیر دیکھ رہے ہیں۔‘

اب ہندوستان کے بادشاہ کا دستر خوان لگایا جارہا ہے اور یہ کوئی عام موقع نہیں ہے بلکہ افطار کا اہتمام ہے تو ہر کوئی مصروف ہے۔ فیض الدین لکھتے ہیں، ’بیسیوں لوہے کے چولھے گرم ہیں، پتیلیاں ٹھنٹھنا رہی ہیں، اپنی اپنی بھاوَن کی چیزیں آپ پکا رہی ہیں۔ دیکھو تپتّی، نوینے، میتھی کا ساگ ہے، کہیں ہری مرچیں، موتیا کے پھولوں کے نیچے کی سبز سبز ڈنڈیاں، بینگن کا دُلمہ (بھرنے کے لیا تیار کیا گیا سالن)، گھئے کی تلاجی، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال ہے۔ کہیں بڑے، پھلکیاں، پوریاں، شامی کباب تلے جاتے ہیں۔ کہیں سیخوں کے کباب، حسینی کباب، تکّوں کے کباب، نان پاؤ کے ٹکڑے، گاجر کا لچھا اور طرح طرح کی چیزیں پک رہی ہیں۔‘

وہ آگے لکھتے ہیں، ’لوعصر کا وقت ہوا، نمازیں پڑھ پڑھ کے روزے کشائی کی تیاریاں ہونے لگیں۔‘

’ایک طرف گلاس، طشتریاں، رکابیاں، پیالے، پیالیاں، رنگ برنگ کی چینی کی اور چمچے سینیوں میں لگے ہوئے رکھے ہیں۔ ایک طرف کوری کوری جھجریاں اور صراحیاں، کاغذی آبخورے، اور پیالے چھوٹے چھوٹے لٹکنوں پر رکھے ہیں، اوپر صافیاں پڑی ہوئی ہیں۔‘

‘سب ترکاریاں میوے وغیرہ آ کر رکھے گئے۔ سب کو چھیل بنا، کوئی سادی، کسی میں نون مرچیں لگا، مونگ کی دال دھو دھلا، کچھ کچی، کچھ اُبلی، کچھ لال مرچوں کی، کچھ کالی مرچوں کی بنا بنو کر طشتریوں اور رکابیوں میں لگائیں۔ رنگتروں کو چھیل، کھانڈ ملا، راحت جان بنا اور کیلے کے قتلے، پھوٹوں کا قیمہ کر کے کھانڈ ملا کر پیالوں میں رکھا۔‘

’تلی ہوئی مونگ، چنے کی دال، بیسن کی سویاں، نکتیاں، بھنے ہوئے پستے بادام نون مرچ لگے ہوئے، بادام پستوں کے نُقل، چھوارے، کشمش وغیرہ طشتریوں میں رکھے، انگور، انار، فالسے، تخم ریحاں، فالودے، میوے کا شربت، لیموں کا آبشورہ ملا کر گلاسوں میں رکھا۔‘

قلعہ میں بادشاہ اور سب لوگ اکٹھے ہوجاتے اور تب افطار کے وقت توپ چلائی جاتی۔ منشی صاحب نے لکھا ہے، ’روزے کا وقت ہوا، بادشاہ نے توپ کا حکم دیا، ہرکاروں نے جھنڈیاں ہلائیں، وہ روزے کی توپ چلی، دھائیں۔ اذانیں ہونے لگیں۔ اس وقت کی خوشی دیکھو، کیسی توپ کی آواز سے چونچال ہو گئیں۔ پہلے ذرا سے آب زم زم یا مکّے کی کھجور یا چھوارے سے روزہ کھولا، پھر شربت کے گلاس ہاتھ میں لے چمچوں سے شربت پیا۔ کسی نے پیاس کی بے تابی میں گلاس ہی منہ سے لگا غٹ غٹ پی لیا۔ ذرا ذرا سی دال ترکاری میوہ وغیرہ چکھا، پھر نماز پڑھ پڑھ کے گلوریاں کھائیں۔ سارا رمضان اسی چہل پہل میں گزر گیا‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں