The news is by your side.

Advertisement

کشمیر اور مغل شہنشاہ جہانگیر کا فرمان

مغل شہنشاہ جہانگیر اکثر کہا کرتا تھا کہ کشمیر میری قلمرو میں بہشتِ روئے زمیں ہے اور اسی لیے ہر سال کشمیر کی سیر کو جاتا تھا۔ اس نے کشمیر کی بہت تعریف کی ہے۔

وہ لکھتا ہے: کشمیر ایک باغ ہے سدا بہار، قلعہ ہے آہنی حصار۔ بادشاہوں کے لیے ایک گلشنِ عشرت افزا ہے، درویشوں کے لیے ایک خلو ت کدۂ دلکشا ہے۔ چمن خوش، آبشارِ دل کش۔ آب ہائے رواں شرح و بیان سے زیادہ اور چشمہ سار حساب و شمار سے باہر ہیں۔ بہار میں کوہ و دشت اقسامِ شگوفہ سے مالا مال۔ در و دیوار اور صحن و بام گھروں کے مشعلِ لالہ سے بزم افروز ہیں۔

جہانگیر میں یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ وہ جن مشہور اضلاع و مقامات میں سے گزرتا تھا، ان کے تاریخی حالات کی خوب تحقیقات کرتا اور وہاں کے باشندوں کی حالتیں، رسم و رواج، طرزِ معاشرت، آب و ہوا، غرض ہر چیز کا بیان لکھتا۔

چنانچہ واپسی کے وقت جب وہ تھنہ میں پہنچا، جو پیر پنجال کے نشیب میں واقع ہے اور وہاں سے راجوری کو روانہ ہوا، تو اس منزل کی کیفیت میں لکھتا ہے کہ یہاں کے آدمی فارسی اور ہندی دونوں زبانیں بولتے ہیں۔ اصل زبان ان کی ہندی ہے۔ قرب و جوار کے سبب سے کشمیری بھی عام طور پر بولی جاتی ہے۔

یہاں کی عورتیں پشمینہ کا لباس نہیں پہنتیں۔ ہندوستان کی عورتوں کی طرح ناک میں نتھ کا استعمال کرتی ہیں۔ راجور کے باشندے پہلے زمانے میں ہندو تھے۔ یہاں کے رئیس کو راجا کہتے ہیں۔ ہر چند یہاں مسلمان کثرت سے ہیں، لیکن ہندو پنے کی رسمیں اُن میں جاری تھیں۔ یہاں تک ہوتا تھا کہ ہندو عورتوں کی طرح مسلمان عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ زندہ دفن ہو جاتی تھیں۔ اکثر بے بضاعت اور جاہل آدمی اپنی لڑکیوں کو ہلاک کر ڈالتے تھے۔

ہندوؤں سے رشتہ داری بھی جاری تھی۔ لڑکی دیتے بھی تھے اور لیتے بھی تھے۔ جہانگیر لکھتا ہے کہ یہ حالات جب میرے گوش گزار ہوئے تو میں نے سختی سے ایک فرمان جاری کیا کہ پھر یہ باتیں نہ ہونے پائیں اور جو کوئی ان کاموں کا مرتکب ہو اس کو خوب سزا دی جائے۔ کسی مسلمان کا کسی ہندو کو لڑکی دے دینا سخت جرم قرار دیا گیا۔

(نام وَر مؤرخ محمد الدین فوق کی شاہی سیرِ کشمیر نامی کتاب کا ایک ورق)

Comments

یہ بھی پڑھیں