The news is by your side.

Advertisement

مسجد جسے اسلحہ ڈپو، کوٹھی اور ریلوے کنٹرول روم کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا

لاہور کی دائی آنگہ مسجد شاہ جہاں کی ایک دایہ کی یادگار اور مغل دور کی نشانی ہے۔

مشہور ہے کہ دائی آنگہ یا دائی انگہ کے خاندان کی شخصیات مغلیہ دربار سے وابستہ تھیں اور پیدائش کے بعد شاہ جہاں‌ کو دائی آنگہ کے سپرد کیا گیا تھا۔ دایہ کا اصل نام زیبُ النسا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے شوہر مراد خان شہنشاہ جہاں گیر کے دور میں بیکانیر کے منصف کے عہدے پر فائز تھے، ان کی زوجہ کا شاہی محل میں‌ آنا جانا تھا جنھیں مغل شہزادے کی دایہ منتخب کیا گیا۔

کہتے ہیں‌ کہ دائی آنگہ نے حج پر جانے سے قبل یہ مسجد تعمیر کروائی تھی جب کہ بعض جگہ لکھا ہے کہ دائی آنگہ کی خواہش پر مغل شہزادہ نے یہ عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس مسجد کی دیواروں اور میناروں پر پچی کاری کا کام کیا گیا ہے۔ مسجد کا ایک بڑا صحن اور اس میں بنایا گیا تالاب اس کی خوب صورتی اور حُسن بڑھاتا تھا۔ یہ مسجد 1045ء میں تعمیر کی گئی تھی۔

مغل دور کی یہ نشانی اور شاہی محل تک رسائی رکھنے والی دائی آنگہ کی اس یادگار کو مہاراجا رنجیت سنگھ کے زمانے میں گولہ بارود جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا تھا جس سے مسلمانوں‌ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور وہ رنجیدہ و ملول ہوئے، لیکن اس کے خلاف کچھ کر نہیں‌ سکے۔ پھر ہندوستان پر انگریز راج قائم ہوگیا اور لاہور کے کمشنر ہنری کوپ نے بھی اس بات کی پروا نہ کی کہ یہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اس نے انتظامیہ کی اجازت سے مسجد دائی آنگہ کو کوٹھی میں تبدیل کردیا اور اسے رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

بعد میں‌ جب یہاں ریلوے اسٹیشن بنایا گیا تو مسجد کو ریلوے سپرنٹنڈنٹ کے سپرد کر دیا گیا جو اسے کنٹرول روم کے طور پر استعمال کرنے لگا۔

نومبر 1901ء میں منشی دین محمد نے اپنے اخبار کے ذریعے انگریز سرکار سے احتجاج کیا اور اس عمل کے خلاف آواز اٹھائی تو اس وقت کے مسلمان اکابرین اور دیگر پریس نے بھی ان کا ساتھ دیا، مسلمانوں‌ کا یہ احتجاج شدّت اختیار کرگیا تو انگریز سرکار نے 1903ء میں اس مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا اور اسے دوبارہ عبادت گاہ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں