مسجد چینیاں والی کی بنیاد فوجدار سرافراز خان نے حویلی میاں خان سے منسلک اپنی رہائش گاہ کے ایک حصے پر رکھی۔ سرافراز خان عہدِ شاہجہانی میں ولی عہد شہزادہ داراشکوہ کا دستِ راست تھا۔
داراشکوہ نے اسے صوبہ لاہور کی فوجداری سونپ کر پانچ ہزاری کا منصب دے رکھا تھا۔ شاہجہان کی بیماری اور پیرانہ سالی کے پیشِ نظر شہزادہ اورنگ زیب نے اپنے باپ کو تخت و تاج سے محروم کر کے انہیں آگرہ میں نظر بند کر دیا اور خود عالمگیر کے لقب سے ہندوستان کا شہنشاہ بنا تو سرافراز خان کے متعلق مخبری ہوئی کہ وہ داراشکوہ کا جاں نثار ہے لیکن ابھی تک اس کی فوجداری اور منصب داری برقرار ہے۔ درپردہ وہ آپ کی جان اور مال کا دشمن ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر نے فوراً سرافراز خان کو عہدے سے موقوف کرنے اور اس کی جائیداد کی ضبطی کا شاہی فرمان جاری کیا۔ لاہور کے صوبے دار تک اس شاہی فرمان کے پہنچنے سے پہلے سرافراز خان کو اطلاع مل چکی تھی۔ اس لیے اس نے فوراً اپنی تمام غیر منقولہ جائیداد مسجد کے لیے وقف کر کے اپنی حویلی کو گرا کر مسجد کی بنیاد رکھ دی اور اس کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کشمیر جانے کے لیے جب لاہور ٹھہرے اور انہیں سرافراز خان کے اس عمل کا علم ہوا تو بہت خوش ہوئے اور انہوں نے نہ صرف سرافراز خان کو اس کے عہدے اور منصب پر بحال کیا بلکہ مسجد کے لیے وقف کی گئی غیر منقولہ جائیداد کے عوض بعض امراء کی حویلیوں اور محلات کے گرانے سے حاصل کی گئی زمینوں اور جائیدادوں میں سے بھی حصہ دینے کا حکم دیا۔ اس طرح فوجدار سرافراز خان نے نہایت توجہ اور کثیر رقم سے اس مسجد کو تعمیر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ عہدِ عالمگیری میں بنے والی یہ مسجد شاہجہان کے عہد میں لاہور کے صوبے دار نواب وزیر خان کی مسجد کی طرز پر بنائی گئی تھی۔
مسجد چینیاں والی کانسی کاری اور منقش کاری کا شاہکار تھی۔ تمام فرش سنگ مرمر سے مرصع تھے۔ مسجد کے مرکزی دروازے کی پیشانی پر شعر تحریر تھا۔
طرفہ معمار خرد تاریخ سال
گفت زیبا مسجد از سرافراز
کوچۂ چابکسواراں میں کڑی عزیز الدین تھی جس کا ایک راستہ مسجد چینیاں والی کے قریب سے گزرتا تھا۔ یہاں نواب میاں خاں کا حمام تھا جو ترکی حماموں کی طرز پر مغلیہ عہد میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت عمارت بڑی بوسیدہ ہو چکی تھی۔ لاہور پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد اندرونِ شہر لاہور میں سب سے پہلے پادری فارمسن نے یہاں مشن اسکول قائم کیا جس نے بعد میں رنگ محل مشن اسکول کے نام پر شہرت حاصل کی۔ اس کے متصل مسجد محمد حفیظ چابکسوار تھی۔ چونکہ مسجد محمد حفیظ چابکسوار بھی حویلی میاں خان کے اس حصہ میں واقع تھی اس لیے وہ مسجد بھی بعد میں مسجد رنگ محل کہلوانے لگی۔
(مارکسی دانشور، ادب اور صحافت کے میدان کا معروف نام عبداللہ ملک ہیں جنھوں نے ایک محقق اور تاریخ داں کی حیثیت سے بھی خوب کام کیا ہے اور یہ اقتباس ان کی آپ بیتی "پرانی محفلیں یاد آرہی ہیں” سے لیا گیا ہے)


