The news is by your side.

Advertisement

وہ پُل جسے چار صدیوں کا بوجھ بھی نہیں‌ جھکا سکا

لاہور مغل دور میں شاہانِ وقت کا پایہ تخت اور پنجاب کے مختلف شہر شہنشاہوں اور ان کے خاص مصاحبوں، امرائے سلطنت کی عارضی قیام گاہیں یا شکار اور سیر و تفریح کے مقامات رہے ہیں جس کی وجہ یہاں کا سبزہ، آب و ہوا اور قدرتی حسن ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے قریب شیخو پورہ کے گردونواح کو شکار گاہ کے طور پر پسند کیا جاتا تھا۔ اسی علاقے میں ایک پُل موجود ہے جو مغل دور کی یادگار ہے۔ اس پُل کو چار صدی قبل تعمیر کیا گیا تھا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں نہ تو اسے تاریخی یادگار کے طور پر دیکھا گیا اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ہزاروں برس بعد بھی یہ پُل کیسے مضبوطی سے اپنی جگہ قائم ہے جب کہ اس سے روزانہ ہر قسم کا ٹریفک گزرتا ہے۔

کہتے ہیں تزک جہانگیری میں اس پُل کا ذکر ملتا ہے اور تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ یہ پُل شہنشاہ جہانگیر کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا اور 1620 میں اس پر کام شروع ہوا۔

اس زمانے میں‌ شہنشاہ شیخو پورہ قلعے میں مقیم تھے۔ تاریخی کتب کے مطابق اس سال بہت بارشیں ہوئیں، جس کے بعد شہنشاہ نے شاہی شکار گاہ کا رخ کیا، لیکن واپسی میں دشواری پیش آئی کیوں کہ ندی نالوں میں طغیانی آ گئی تھی۔ ان کے راستے میں بپھری ہوئی ڈیگ ندی پڑی تو قافلے کو کنارے پر تین چار روز رکنا پڑا۔

تب شہنشاہ نے اس جگہ ایک پل کی تعمیر کا حکم دیا اور مغل ماہر تعمیرات نے 1621 تک اس کام کو اپنی نگرانی میں مکمل کروایا۔

یہ پل ضلع شیخو پورہ کے گاؤں کوٹ پندی داس سے لگ بھگ ایک کلو میٹر جنوب مشرق کی طرف واقع ہے۔

ماہرین نے اس پُل کو چھوٹی اینٹوں سے تعمیر کیا ہے موٹے ستونوں کے ساتھ پانی کے لیے گزر گاہیں بنائی ہیں‌ جو قوس نما ہیں۔ اسی طرح اُس زمانے میں خوب صورتی کے لیے پُل پر برجیاں تعمیر کی گئی تھیں جو اب باقی نہیں رہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں