The news is by your side.

Advertisement

شاہ جہاں کے دور کی خوب صورت اور یادگار تعمیرات

برصغیر میں مغلیہ طرزِ تعمیر اور مختلف عظیم الشان عمارتیں نہ صرف دنیا بھر میں مشہور ہیں بلکہ اس خطے میں مختلف فنون اور کاری گروں کی مہارت کا ثبوت ہیں۔

شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں مسجدوں کی تعمیر میں اس زمانے کے ہنرمندوں اور کاری گروں کی مہارت بھی دیدنی ہے۔ اس دور کی دو خوب صورت مساجد میں آگرہ قلعے کی موتی مسجد، جو سنگِ مرمر کی بنی ہوئی ہے اور دہلی کی جامع مسجد جس میں سرخ پتھر کا نہایت مہارت سے استعمال کیا گیا ہے۔

جامع مسجد کی خوب صورتی اور فن کی مہارت اس کے بہت بڑے بڑے دروازوں اور گنبدوں میں نظر آتی ہے۔ اس دور کو تعمیراتی لحاظ سے سنہرا دور کہا جاتا ہے کہ اسی میں عجائبِ روزگار تاج محل تعمیر ہوا۔ اس کے علاوہ آگرہ کے قلعے کے اندر کئی شان دار عمارتیں بنوائی گئیں۔

دلی کے لال قلعے میں عالی شان محلات اور مکان بنائے گئے۔ شاہ جہاں کے دور میں تعمیرات میں سنگِ مرمر کا انتہائی نفاست کے ساتھ استعمال ہوا۔

دلی کی جامع مسجد، لال قلعے کا دیوانِ عام، دیوانِ خاص، ساون بھادوں، شیش محل، انگوری باغ وغیرہ آج بھی اس دور کی شان و شوکت کی کہانی سناتے اور فنِ تعمیر کے کمال و اوج کی یادگار ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں