The news is by your side.

Advertisement

لیجنڈ باکسر محمد علی کی نمازہ جنازہ جمعے کے روز اُن کے آبائی شہر میں ادا کی جائے گی

نیویارک : سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی کی نماز جنازہ جمعے کے روز ان کے آبائی شہرلوئی ویلے میں ادا کی جائے گی.

تفصیلات کے مطابق لیجنڈ باکسر محمد علی کےنماز جنازہ میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن،معروف امریکی کامیڈین بلی کرسٹل سمیت کھیلوں کے صحافی برائنٹ شرکت کریں گے.

سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی سانس کی تکلیف کے باعث گذشتہ روز اسپتال میں انتقال کر گئے تھے،محمد علی پارکس سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے.

سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ محمد علی نے درخواست کی تھی کہ ان کی نماز جنازہ اسلامی روایات کے تحت امام کی موجودگی میں ادا کی جائے.

لیجنڈ باکسر محمد علی کی نماز جنازہ جلوس کی شکل میں ان کے آبائی شہر لوئی ویلے کی سڑکوں سے گزرے گی،اور عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی کو کیوو ہل قبرستان میں دفنایا جائے گا.

یاد رہے لیجنڈ باکسر محمد علی کوسانس کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا وہ امریکی شہرفینکس کےاسپتال میں زیر علاج تھے.

انہوں نے 12سال کی عمر میں باکسنگ شروع کی اور تین مرتبہ باکسنگ کے عالمی چیمپیئن رہے،پہلی مرتبہ 1964 میں باکسنگ کے عالمی چیمپیئن بنے،محمد علی 1974اور 1978میں بھی چیمپئن بنے.

لیجنڈ باکسرنے 1960 میں روم اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا،محمد علی کے نام کے ساتھ ’گریٹیسٹ‘ یعنی عظیم ترین لگایا جاتا ہے انھوں نے 61 مقابلوں میں 56 مقابلے جیتے تھے.

محمد علی کو پہلی بین الاقوامی فتح 1960 میں ملی،جس کے بعد وہ امریکا کے ہیرو کہلانے لگے.

ویت نام جنگ کے دوران محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے کے عہد نامے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد انھیں ان کے اعزاز سے محروم کرکے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،بعد ازاں سپریم کورٹ نے عوامی احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد علی کو سزا سے مستثنیٰ قرار دیا تھا.

یاد رہے کہ امریکہ کی ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے باکسر محمد علی پہلے کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن سونی لسٹن کے خلاف 25 فروری سنہ 1954 کو ہونے والے اہم مقابلے کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اسلام قبول کر رہے ہیں اور اپنا نام بدل کر محمد علی رکھ رہے ہیں.

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے لیجنڈ باکسر محمدعلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےکہا کہ وہ نا صرف بیسویں صدی کے عظیم اسپورٹس مین تھے بلکہ انسانی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرنے والے ہیرو تھے.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں