ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

کے الیکٹرک ریکوری افسر کا ماورائے عدالت قتل، گڈاپ پولیس کا کریمنل ریکارڈ کا دعویٰ

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (11 مئی 2026): شہر قائد میں ایک اور نوجوان پولیس گردی کا شکار ہو گیا، کے الیکٹرک کے ریکوری افسر محمد آصف کو گڈاپ پولیس نے مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

مقتول کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ 35 سالہ محمد آصف خان کو پولیس نے ہفتے کی صبح حراست میں لینے کے بعد شام کو مبینہ مقابلے میں قتل کر دیا، ایس ایچ او گڈاپ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مقتول منشیات فروش تھا اور اس کا کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے۔

آصف خان کے اہل خانہ کے مطابق ہفتے کو صبح 7 بجے گڈاپ پولیس کی دو موبائلوں اور ایک کار میں سوار اہلکار آصف خان کو گھر سے حراست میں لے کر چلے گئے، ہفتے کی شام سات بجے کے بعد آصف کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں زخمی کیے جانے کے بعد گرفتار کرنے کا ڈراما رچایا گیا، جب کہ اتوار کی صبح اطلاع ملی کہ زخمی آصف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ہے۔


اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گڈاپ پولیس نے نوجوان محمد آصف کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل میں ملوث پولیس ٹیم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔


کے الیکٹرک کے کارڈ کے مطابق آصف خان کے ای کا ریکوری افسر تھا، اہل علاقہ نے بتایا کہ مقتول بہت ہی ملنسار خوش طبیعت شخصیت کا مالک تھا، اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا۔

اہل خانہ نے اعلیٰ حکام کو دہائی دی ہے کہ آصف خان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو اپنے باپ کے سائے سے محروم ہو گئے ہیں، صدر پاکستان، آرمی چیف، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ پولیس اور دیگر اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ مقتول آصف خان کے قتل کی منصفانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ اور واقعے کی منصفانہ تفتیش کر کے ملوث افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کرنے کے بعد قرار واقعی سزا دی جائے۔

پولیس کا مؤقف


گڈاپ پولیس کے ایس ایچ او محمد علی شاہ نے رابطے پر بتایا کہ کریم ٹاؤن میں پولیس مقابلے میں زخمی اور بعد میں ہلاک ہو جانے والا جرائم پیشہ تھا، ملزم کا کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ملزم آصف منشیات فروشی سمیت 4 مقدمات میں نامزد تھا، جب کہ اس کے خلاف مقدمات گڈاپ، ڈیفنس اور اے این ایف میں درج ہیں۔

تھانہ گڈاپ سے جاری پریس ریلیز میں ایس ایس پی ملیر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کریم ٹاؤن میں پولیس اور مسلح منشیات فروشوں کے درمیان مقابلہ ہوا تھا، دوطرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار، جب کہ ساتھی ملزم فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوا، زخمی ملزم کی شناخت آصف خان ولد عبد المتین خان کے نام سے ہوئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کا نام پولیس کی مطلوبہ فہرست میں شامل ہے جو عرصہ دراز سے منشیات فروشی کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ زخمی ملزم سے 1 عدد پستول مع ایمونیشن اور نقدی رقم برآمد ہوا تھا۔

مشکوک ایف آئی آرز


پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے ملزم آصف کی منشیات فروشی کے حوالے سے ایف آئی آر بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں ایک کے مطابق ان سے 2019 راستے میں تلاشی کے دوران پستول برآمد ہوا تھا، جب کہ فروری 2019 ہی کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک ایف آئی آر میں مشکوک طور پر گڈاپ کے کسی رہائشی آصف کا ذکر درج ہے جسے ایک گرفتار منشیات فروش منشیات دینے آ رہا تھا۔

تاہم کے الیکٹرک کے ایک کنٹریکٹ ملازم پر گڈاپ پولیس کے یہ الزامات اور اہل خانہ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ مقتول کو گھر سے حراست میں لے کر تھانے لے جایا گیا تھا، اور مقتول کے بھائی نے بتایا کہ پولیس نے ملاقات اور رہائی کے لیے ان سے پانچ لاکھ روپے رشوت بھی مانگی، اس پس منظر نے محمد آصف کے قتل کا یہ معاملہ پیچیدہ بنا دیا ہے، کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس کی شفاف انکوائری کرنے کے لیے فوری ایکشن لینا چاہیے۔

ٹانگ میں گولی لگنے سے ہلاکت

پولیس حکام کو خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بنا کر یہ جانچ بھی کرنی چاہیے کہ مقتول آصف کو ٹانگ میں پولیس اہلکار کی گولی لگی تھی، عموماً ایسی صورت میں ملزمان ہلاک نہیں ہوتے، اور اسپتال میں انھیں تسلی بخش طبی امداد مل جاتی ہے۔ تاہم آصف کے کیس میں ٹانگ کے زخم سے ہلاکت بھی حیرت انگیز ہے۔ جانچ سے پتا چل سکتا ہے کہ کیا آصف کو جان بوجھ کر طبی امداد تک رسائی روکی گئی تھی، یا یہ محض اتفاق تھا، یا مبینہ مقابلے سے قبل اس پر تشدد اتنا کیا گیا تھا کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔

+ posts

افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں

اہم ترین

افضل خان
افضل خان
افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں