The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا اہم بیان

ریاض : سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کہا ہے کہ مملکت کے ویژن2030 کے اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے حاصل کیے گئے فوائد آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزید مستحکم ہوں گے۔

سعودی خبررساں ادارے کے مطابق جانے والے قومی بجٹ اجلاس کے بعد اہم نکات بیان کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس میں شک نہیں کہ سال2020 ساری دنیا کے لیے مشکل ترین سال تھا، تاہم ترقی اور تعمیر کے سفر کو جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث پوری دنیا کو جس چیلنچ کا سامنا کرنا پڑا ایسے میں سعودی عرب کی معیشت نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو تسلیم کرایا۔

ولی عہد مملکت نے مزید کہا کہ کورونا کی عالمی وبا کے دوران سعودی حکومت نے نجی شعبے کو کافی مراعات دیں تاکہ شہریوں کے روزگار متاثر نہ ہوں۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے رواں مالی سال کے لیے پیش کیے جانےوالے بجٹ کے حوالے سے مزید کہا کہ بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ گزشتہ برس2020 سے 10.3 فیصد زیادہ ہے جس سے مالی استحکام میں مدد ملے گی جبکہ امسال بجٹ خسارے کو 141 ارب ریال پر لانے کا عندیہ دیا گیا ہے جو کہ گزشتہ برس 298 ارب ریال تھا۔

ولی عہد مملکت نے واضح کیا کہ مملکت کی معیشت میں نجی شعبے میں مزید بہتری آنے کی قوی امید ہے جس کے لیے پرائیوٹ سیکٹر کو انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے علاوہ دیگر ترقیاتی امور میں بھی شرکت کے مواقع دیئے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سعودی معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہوگا، فنڈ کے ذریعے آئندہ برسوں میں بہتری آئے گی جس سے ملازمت کے مزید مواقع میسر آئیں گےاور ملک کو اضافی محصولات فراہم ہوں گے۔

قومی بجٹ اجلاس کے بعد گفتگو میں ولی عہد مملکت شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ تیل مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے حوالے سے اوپیک پلس گروپ کے تعاون کو بھی سراہا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے خطاب میں امور صحت سے منسلک شہریوں اورغیر ملکیوں کے کردار کی بھی تعریف کی جنہوں نے کورونا کی وبا کے دوران ثابت قدمی سے فرائض ادا کیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں