سلاطینِ دہلی کے معروف خاندانوں میں سے ایک تغلق خاندان تھا، جس نے طویل عرصے تک تخت سنبھالے رکھا اور حکم رانی کی۔ اس خاندان کے تین سلاطین کو بہت شہرت ملی جن میں سے ایک سلطان محمد بن تغلق شاہ ہیں۔ تاہم سلطنتِ دہلی کے کسی اور بادشاہ کے متعلق مؤرخین میں اس قدر اختلاف رائے نہیں، جتنا سلطان محمد بن تغلق کے بارے میں پایا جاتا ہے۔
تاریخ کے اوراق میں سلطان محمد تغلق شاہ کو ایک متنازع بادشاہ کے طور پر دیکھا گیا ہے جن کی شخصیت خامیوں اور خوبیوں کا ایسا مجموعہ تھی جنھیں الگ الگ کر کے دیکھنا مشکل کام ہے۔ ایک طرف تو وہ سخت گیر منتظم اور ترقی پسند بادشاہ مشہور تھے اور دوسری طرف سفاک اور بے رحم حکم راں بھی۔ تاریخ دانوں نے محمد تغلق شاہ کو تعلیم یافتہ اور جدت پسند حاکم بھی لکھا ہے مگر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک دیوانے یا کوتاہ اندیش حکم راں تھے جن کے اکثر منصوبے اور عسکری مہمات ناکام رہیں۔ مؤرخین نے انھیں اپنے مخالفین کو عبرت ناک اور غیر شرعی سزائیں دینے والا بادشاہ بھی لکھا ہے۔
یحییٰ بن احمد سرہندی سلطان محمد تغلق کی بادشاہت کے نتائج پر لکھتے ہیں: ’’اُمورِ سلطنت بالکل چوپٹ ہوگئے اور نظامِ مملکت مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گیا، جب ایک طرف سے مملکت میں رونما ہونے والے فتنوں کا سدِ باب کرنے پر توجہ دی جاتی تو دوسری طرف سے فتنوں کا دروازہ کھل جاتا۔ جب ایک طرف ملک میں امن و امان برقرار کرنے کا خیال اس (سلطان) کے دل میں آتا تو دوسری طرف کوئی زبردست خلل واقع ہوجاتا اور وہ (اپنی تدبیروں کے الٹا ہوجانے پر) حیران و پریشان ہو کر رہ جاتا۔ سلطنت کی بنیاد جو کہ گزشتہ بادشاہوں نے ڈالی تھی پوری طرح متزلزل ہوگئی۔ وہ جس کام کا تہیہ کر لیتا تھا (اس کے نتیجے میں) اختلالِ مملکت، نقصانِ دین، اپنی تشویش، ملک داری اور دست گاہِ شہریاری میں سے (اس کے پاس) کچھ بھی باقی نہ رہا۔‘‘
سلطان محمد بن تغلق کی ذات و صفات اور ان کے طرزِ حکم رانی پر اگرچہ مؤرخین میں زبردست اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن بعض تاریخ دانوں نے سلطان کو بہادر اور نڈر بھی کہا ہے جنھیں مخالفین اور دشمن نے ظالم سپہ سالار مشہور کردیا۔ یہ بھی تعجب خیز بلکہ مبالغہ آرائی معلوم ہوتی ہے کہ سلطان محمد بن تغلق کے محل کے سامنے شاید ہی کوئی دن گزرتا جب کسی انسان کی لاش نہ لٹک رہی ہوتی اور یہ بادشاہ کی حکم عدولی کرنے والا یا دشمن کی لاش ہوتی تھی۔ تاریخ دانوں کے مطابق سلطان کی عمر جیسے میدانِ جنگ میں ہی گزر گئی اور برسرِاقتدار آنے کے بعد زیادہ وقت بغاوتوں کو کچلنے میں صرف ہوا۔
مشہور ہے کہ سلطان محمد بن تغلق نے مملکتِ ہند اور چین کے درمیان حائل علاقہ قراچل فتح کرنے کے لیے 80 ہزار سواروں پر مشتمل لشکر ترتیب دیا۔ اس مہم کامقصد کیا تھا؟ مذکورہ اَمر میں بھی مؤرخین میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ کا خیال ہے کہ وہ چین فتح کرنا چاہتا تھے لیکن یہ بات حقائق کے منافی ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ وہ قراچل علاقے کی عورتوں کو اپنے حرم میں دیکھنے کے خواہش مند تھے لیکن یہ اَمر سلطان کے کردار کے تمام جائزوں کے برخلاف ہے۔ کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ پہاڑی علاقے کے سرداروں کو اپنے اقتدارِ اعلیٰ کے زیرِ اثر لانا چاہتا تھا۔ یہ رائے معتبر ہے کیونکہ اشوکِ اعظم کے بعد وہ واحد حکم ران تھا کہ جو’’جنوبی ہند اور شمالی ہند ایک اکائی‘‘ کے نظریہ کا علم بردار تھا۔ یحییٰ بن احمد سرہندی کے مطابق ’’اس نے اپنے سواروں کو حکم دیا کہ وہاں سے جب وہ نشیبی علاقے میں آئیں تو واپسی کے راستے میں (سلسلۂ مواصلات برقرار رکھنے کے لیے) چوکیاں بنائیں تاکہ لوٹتے وقت دشواری نہ ہو۔ جب لشکر وہاں پہنچا تو حسبِ دستور چوکیاں قائم کی گئیں اور سارا لشکر سلسلۂ کوہِ قراچل میں داخل (بھی) ہو گیا لیکن رسد کی کمی اور راستے کی دشواری اِس پر غالب آئی۔ جو چوکیاں قائم ہوئیں تھیں اُن پر پہاڑی لوگوں نے قبضہ کرکے سب چوکیداروں کو قتل کر دیا۔ وہ لشکر جو کہ سلسلۂ کوہِ قراچل میں داخل ہوا تھا سارے کا سارا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اکثر سردار گرفتار ہوگئے اور کافی عرصہ تک (وہاں) کے راجاؤں کی قید میں رہے۔‘‘
تاریخی کتب اور سلاطین سے متعلق تذکروں میں لکھا ہے کہ محمد بن تغلق شاہ کی عسکری مہمّات اور بے جا فیاضی کا نتیجہ یہ نکلا کہ شاہی خزانہ خالی ہوگیا اور پھر سلطان نے سونے کے سکّوں کی جگہ تانبے کے سکّے رائج کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی ان کا غلط فیصلہ تھا جس نے سلطنت کے طول و عرض میں لوٹ مار اور فریب کاری کو پنپنے کا موقع دیا۔ دھوکے بازوں نے ٹکسال قائم کر کے دھڑا دھڑ تانبے کے سکّے بنائے اور ان کے عوض سادہ لوح لوگوں سے سونا، چاندی اور دوسرا مال و اسباب خرید لیا۔ اس کا منطقی نتیجہ کساد بازاری ہی تھا جس کے بعد شاہی فرمان جاری کیا گیا کہ لوگ تانبے کے سکّے شاہی خزانے میں جمع کروا کے سونے کے سکّے حاصل کریں۔ اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور شاہی خزانے کا بھرکس نکل گیا۔
کہا جاتا ہے کہ محمد بن تغلق شاہ نے دکن میں دَیو گری نام کا شہر آباد کیا جسے بعد ازاں دولت آباد کہا جانے لگا اور پھر اسے سلطنت کا نیا انتظامی شہر قرار دے دیا۔ اس کے بعد فرمان صادر کیا کہ دہلی اور مضافات کے تمام باشندوں کو کارواں در کارواں دولت آباد میں منتقل کیا جائے اور ان کے لیے مکانات خریدنے کے لیے شاہی خزانے سے پیسے دیے گئے۔ کہتے ہیں کہ اس اَمر سے دہلی شہر ایسا اجڑا کہ چند دنوں بعد یہاں سے بلّی اور کتّے کے بولنے کی آوازیں بھی سنائی نہ دیتی تھیں۔ ایسے میں اوباش لوگ دہلی میں داخل ہوگئے اور جو لوگ وہاں رہ گئے تھے ان کو لوٹ لیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دہلی ایک سو ساٹھ سال سے سلطنت کا دارُالحکومت چلا آ رہا تھا اور کوئی وجہ نہ تھی کہ ایسا کیا جاتا۔ یہ سلطان کا غلط فیصلہ تھا۔
تاریخی کتب میں آیا ہے کہ محمد بن تغلق شاہ 1290ء کو ملتان میں پیدا ہوئے وہ تغلق خاندان کے مشہور حکم راں غیاث الدّین تغلق کے بیٹے تھے۔ سلطان کا انتقال 1351ء میں ہوا۔ ان کی تاریخِ وفات میں اختلاف ہے۔ لیکن محققین کی اکثریت نے یہ تاریخ 20 مارچ لکھی ہے۔
سلطان محمد بن تغلق کے بعد ان کے چچا زاد بھائی فیروز تغلق نے تخت سنبھالا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


