site
stats
سندھ

کراچی کے لیے 2014 اور 2015 میں مختص 89 ارب روپے کہاں استعمال ہوئے؟ محمد حسین

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین نے سوال اُٹھایا کہ سندھ حکومت نے 2014 اور2015 میں کراچی ترقیاتی فنڈ کے لیے رکھی گئی رقم کہاں خرچ ہوئی ؟

تفصیلات کے مطابق سندھ میں بجٹ تجاویزات پر بحث و مباحثہ جاری ہےجس میں حصہ لیتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین نے سندھ حکومت سے پوچھا کہ 2014 میں کراچی کی ترقی اسکیموں کے لیے 42 ارب اور 2015 میں 47 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، کیا سندھ حکومت بتانا پسند کرے گی کہ یہ رقم کہاں استعمال ہوئی اور کون سے بڑے پروجیکٹ ان رقوم سے پایہ تکمیل کو پہنچے؟

اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی محمد حسین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کوئی گارنٹی نہیں حالیہ بجٹ میں مختص کی گئی رقم بھی استعمال ہو گی یا حکومتی کرپشن کے نظر ہو جائے گی،حکومت نے اس قبل بھی 53 ارب میں سے محض 12 ارب ہی استعمال کیے۔

محمد حسین کا کہنا تھا کہ اس مالی بے ضابطگی کی بنیادی وجہ کراچی کی ترقی کے لیے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے بجائے بلدیاتی اداروں کو من مانے طریقے سے چلانا ہے، سندھ حکومت کی کار گذاری کے باعث بلدیاتی ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

محمد حسین نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران اسپیکر اسمبلی کی توجہ مبذول کرواتے کہا کہ بیوروکریسی منتخب نمائندوں کی ترقیاتی اسکیموں کو نظر انداز کر دیتی ہے، جس کے باعث رکن اسمبلی کو ملنے والے بجٹ استعمال ہی نہیں ہو پا تے،اس معاملے پر کئی بار بیوروکریسی سے رابطہ کیا گیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔

محمد حسین نے بیوروکریسی کی جانب سے اراکین اسمبلی کی اسکیموں کو ختم کرنے پرسخت احتجاج کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے بیوروکریسی کے ناروا سلوک کے باعث اُن سے ملنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

آخر میں محمد حسین کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کراچی کو کربلا نہ بنائے، بلدیاتی نمائندے منتخب ہو چکے ہیں انہیں اختیارات دے کر اپنے اپنے علاقون میں بھیجا جائے تا کہ وہ عوام کی خدمت کر سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top