The news is by your side.

Advertisement

طوطا جس نے رومی خاں کا راز افشا کر دیا

محمد حُسین آزاد کی کتاب آبِ حیات سے ایک پارہ

ہمایوں نے جب گجرات دکن پر فوج کشی کی تو سلطان بہادر وہاں کا بادشاہ تھا اور جاپانیر کا قلعہ بڑا مستحکم تھا کہ سلطان خود بھی وہاں رہتا تھا اور تمام خزائن و دفائن وہیں رکھتا تھا۔

محاصرے کے وقت رومی خاں میر آتش (باوجودیکہ کمال معتبر اور مصاحبِ منظورِ نظر سلطان کا تھا) ہمایوں سے مل گیا، اور قلعہ (تمام نصائسِ اموال اور خزائن بے حساب سمیت) ہمایوں کے قبضہ میں آیا۔

سلطان بہادر کے پاس ایک طوطا تھا کہ آدمی کی طرح باتیں کرتا تھا اور سمجھ کر بات کا جواب دیتا تھا، سلطان اُسے ایسا چاہتا تھا کہ سونے کے پنجرے میں رکھتا تھا اور ایک دَم جدا نہ کرتا تھا، وہ بھی لُوٹ میں آیا۔

جب دربار میں لائے، رومی خان بھی موجود تھا۔ طوطے نے دیکھ کر پہچانا اور کہا۔ “پھٹ پاپی رومی خاں نمک حرام۔” سب کو تعجب ہوا اور ہمایوں نے کہا، رومی خاں چکنم کہ جانور است ورنہ زبانش می بریدم۔

اُس نے شرما کر آنکھیں نیچی کر لیں۔ غرض اس نقل سے یہ ہے کہ اس وقت بھی لوگوں کی زبان پر عربی فارسی کے لفظ چڑھے ہوئے تھے، جب ہی طوطے کی زبان سے نمک حرام کا لفظ نکلا، جانور جو سُنتا ہو گا وہی بولتا ہو گا۔

(آزاد نے اردو زبان کی تاریخ سے متعلق باب میں یہ سطور رقم کی تھیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں