The news is by your side.

Advertisement

ریڈیو پاکستان کا مونو گرام اور محمد یوسف دہلوی

خطاطی اور خوش نویسی نہ صرف ایک فن ہے بلکہ خاص طور پر اسلامی خطاطی کو نہایت متبرک اور باعثِ اجر و ثواب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس فن کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان میں طغریٰ اور عام خطاطی شامل ہے جس میں ہمارے ملک میں کئی شخصیات نے نام و مقام بنایا۔ ان میں سے ایک محمد یوسف دہلوی بھی ہیں جو نہایت خوش ذوق اور قابل خطاط مانے جاتے ہیں۔

ان کے والد منشی محمد الدین جنڈیالوی بھی خطاط تھے جنھوں نے 1932 میں غلافِ کعبہ پر خطاطی کا شرف حاصل کیا۔ یوسف دہلوی نے انہی سے ذوقِ خوش نویسی سمیٹا تھا۔ وہ مختلف خوش نویسوں اور اپنے دور کے باکمال خطاطوں کے فن پاروں کا گہرائی سے مطالعہ کرتے رہے اور اس فن میں اپنی اختراع اور اجتہادی صلاحیتوں کے سبب ممتاز ہوئے۔ انھوں نے ایک نیا طرز متعارف کروایا جسے دہلوی طرزِ نستعلیق کہا جاتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے اصرار اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی کوششوں سے پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر اپنے فنِ خطاطی کے نقوش چھوڑے۔ بعد ازاں پاکستان ہجرت کی اور ایک بار پھر یہاں سکوں پر لفظ حکومتِ پاکستان نہایت خوب صورت انداز میں تحریر کیا۔

آپ نے ریڈیو پاکستان کا مونو گرام دیکھا ہو گا جس پر قرآنی آیت، قُولُوالِلنَّاسِ حُسناً تحریر ہے؟ یہ بھی محمد یوسف دہلوی کے کمالِ فن کا نمونہ ہے۔ 11 مارچ 1977 کو ایک ٹریفک حادثے میں یوسف دہلوی زندگی کی بازی ہار گئے.

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں