The news is by your side.

یوگنڈا کے جنرل کے دلچسپ ٹویٹس موضوع بحث بن گئے

مشرقی افریقی ملک یوگنڈا کے صدر کے بیٹے، جو جنرل کے عہدے پر فائز ہیں، اپنے غیر سنجیدہ ٹویٹس کی وجہ سے مشہور ہیں، تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کے ٹویٹس کے پیچھے سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کار فرما ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی کے بیٹے موحوزی کینیرو گابا نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی جگہ صرف اس وقت تخت نشین ہوں گے اگر ان کے ٹویٹ کو زیادہ لائکس مل گئے۔

کینیرو گابا جو اپنے ملک کی فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز ہیں، ٹویٹر پر بہت زیادہ سرگرم ہیں۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ چلیں، اگر آپ میں سے جو چاہتے ہیں کہ میں اپنے والد کی جگہ صدر بنوں وہ اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ اور لائک کریں۔ اگر آپ مجھے قائل کر سکے تو میں یہ کر لوں گا۔

اس ٹویٹ کو 2 ہزار 400 صارفین نے ری ٹویٹ کیا جبکہ ساڑھے 7 ہزار سے زائد لائکس ملے۔

کینیرو گابا کو عام طور پر ان کے نام کے پہلے حصے سے جانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے، بدلہ لینے والا، وہ پرجوش ٹویٹس کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر انہوں نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو 100 گایوں کا تحفہ دینے کی پیشکش کی تھی، انہوں نے لکھا کہ ہماری ثقافت میں آپ جس لڑکی کو پسند کرتے ہیں اس کو گائے کا تحفہ دیتے ہیں۔

انہوں نے کینیا پر حملہ کرنے کے امکان کے بارے میں موسیقی بھی شیئر کی تھی۔

یوگنڈا کے صدر پر بیٹے کی ٹویٹس کی وجہ سے تنقید بھی کی جاتی ہے اور کئی بار ان کی غیر سنجیدہ ٹویٹس پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اسی طرح کے ایک مطالبے پر کینیرو گابا نے ٹویٹ کیا کہ وہ بالغ ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔

اگرچہ کینیرو گابا کے تازہ ترین ٹویٹ کو کئی افراد نے غیر سنجیدہ قرار دیا تھا تاہم بعض مبصرین کے مطابق وہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کے تحت ایسی باتیں کر رہے ہیں۔

یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی کی عمر 78 برس ہے اور موحوزی کینیرو گابا ان کے جانشین کے طور پر اقتدار سنبھال سکتے ہیں، اور اان کی ٹویٹ کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

افریقہ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے صدر اور سی ای او پیٹر کاگوانجا کا کہنا ہے کہ یہ خاندان یوگنڈا کو کنٹرول کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کینیرو گابا شہزادہ ہے، اس کا باپ صدر اور ماں کابینہ میں ہے۔ وہ اپنے والد کی جگہ اقتدار سنبھالنے کے وقت کا انتظار کر رہا ہے۔

ان کے مطابق محوزی اشتعال انگیز بات کرتے ہیں، پھر ان کے والد جا کر معافی مانگنے کا بندوبست کرتے ہیں، اور اس طرح وہ اہم سیاسی حلقوں میں متعارف ہو جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں