مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا -
The news is by your side.

Advertisement

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا

ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنام خیالی ٹھہرو
میرا دل گوشہ تنہائی میں گھبرائے گا

لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو
زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا

عزم پختہ ہی سہی ترک وفا کا لیکن
منتظر ہوں کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا

آنکھ جھپکے نہ کہیں راہ اندھیری ہی سہی
آگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا

دل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ
جب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا

*********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں