جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

مختار مسعود: جب سوچ کے پَر کُھلے!

اشتہار

حیرت انگیز

اردو ادب میں مختار مسعود کا نام ہمیشہ ان کی البیلی اور خوب سجی ہوئی نثر کے لیے زندہ رہے گا۔ اگرچہ ستّر کے عشرے سے قبل مختار مسعود ادبی دنیا کے لیے ایک انجان نام تھا، مگر پاکستان کی افسرِ شاہی میں وہ ضرور نیک نام مشہور تھے۔ بعد میں بطور ادیب ان کی پہچان کی خوش بو ہر طرف پھیلی اور ان کی پہلی کتاب آوازِ دوست نے سبھی کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔

شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی نے بھی مختار مسعود کے بارے میں لکھا، ’’سب سے پہلے میں اُن کو دیکھتا تھا، اپنے محبوب و مقتول دوست، مصطفیٰ زیدی کی کوٹھی پر۔ ہر چند وہ میرے مشغلے کا وقت تھا…پھر بھی یہ بات اچّھی طرح یاد ہے کہ جب میری نگاہ اُن کی جانب اُٹھتی تھی، تو اُن کے چہرے کی شعاعیں دیکھ کر، میں چونک سا اٹھتا تھا کہ یہ کیسا چہرہ ہے، جو مجھ کو، اس عالمِ سرور میں بھی اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔‘‘

رشید احمد صدیقی اردو کے صاحبِ اسلوب ادیب تھے جن کو طنز و مزاح نگار کے طور پر بہت شہرت ملی۔ مختار مسعود ان کے ہم سایہ رہے تھے۔ مختار مسعود نے اپنی تصنیف حرفِ شوق میں رشید احمد صدیقی کے گھر کے ماحول اور ایک کنویں کا نقشہ کھینچتے ہوئے اپنی ایک یاد تازہ کی ہے جو کچھ اس طرح‌ ہے:

’’رشید احمد صدیقی کا گھر سال کے تین سو پینسٹھ دن کھلے گھر کا منظر پیش کرتا تھا۔ اس کیفیت کا اطلاق گھر کے دونوں حصّوں پر ہوتا تھا۔ کیا مردانہ اور کیا زنانہ۔ آنا جانا لگا رہتا۔ پیدل، سائیکل، تانگہ، موٹر اور گاہے ٹم ٹم۔ رشتہ دار، شاگرد، مداح، احباب، مشاہیر اور بن بلائے مہمان۔

اسٹاف کالونی میں دور دُور تک کوئی اور گھرانا اتنا خوش معاشرت اور دوست دارانہ نہ تھا۔ یہ بات سنی سنائی نہیں دیکھی بھالی ہے۔ میں ان کا ہم سایہ تھا لیکن یہ مضمون ہم سائیگی کے مشاہدات اور تجربات کے بارے میں نہیں ہے۔

رشید احمد صدیقی کا گھر ایک اور اعتبار سے دوسرے تمام گھروں سے مختلف تھا۔ ان کے قطعۂ زمین کے مغربی جانب کنارے پر ایک بڑا سا کنواں تھا۔ رشید صاحب نے مکان کی دیوار میں خم دیا اور کنوئیں کو گھر میں شامل کرنے کی بجائے چار دیواری سے باہر رہنے دیا تاکہ لوگ آزادی سے اس کا پانی استعمال کر سکیں۔ نہ منڈیر پر تختی لگی کہ یہ شارع عام نہیں ہے، نہ کنویں پر کہیں لکھا تھا کہ آبی ذخیرہ کے جملہ حقوق بحق مصنفِ خنداں محفوظ۔ اس نیک کام کی ہر ایک نے دل کھول کر داد دی۔

عنایت علی خان نے جن کا پلاٹ حاجی صاحب اور صدیقی صاحب کے گھروں کے درمیان تھا مکان بنانے کے منصوبے کو مؤخر کیا۔ کاشت کاری اور چاہی آب پاشی کا تجربہ شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ قطعۂ زمین پالیز میں بدل گیا۔ عنایت علی خان کے کھیت کے خربوزے اور تربوز خوش ذائقہ اور خوش رنگ تھے۔ رشید صاحب کے کنوئیں کے پانی کی تاثیر ہی کچھ ایسی تھی۔

یہ ایک بڑا سا کنواں تھا۔ چمڑے کا بہت بڑا ڈول ڈالتے جو چرس کہلاتا۔ بیلوں کی جوڑی اس کا موٹا اور مضبوط رسہ کھینچتی ہوئی ڈھلان میں اُتر جاتی۔ بیل کھڈ کے آخری سرے تک پہنچتے اور چرس مینڈھ تک آ جاتا۔ ایک صحت مند آدمی جسے بارا کہتے پہلوانی گرفت سے پانی بھرے چرس کو اپنی طرف کھینچتا۔ تھوڑا سا پانی چھلک کر کنارے کی بلندی سے کنوئیں کی گہرائی میں گرتا۔ چھن چھن چھناک کی آواز بلند ہوتی۔ باقی پانی پختہ اینٹوں کے فرش سے سیلابی ریلے کی طرف بہتا ہوا کھالے میں جا پہنچتا جو اسے رشید احمد صدیقی کے گلابوں اور عنایت علی خان کے خربوزوں تک لے جاتا۔

ایک رات مَیں کوئی آدھ گھنٹہ تک اس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھا رہا۔ رات ان دنوں مغرب کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی تھی۔ آج کل کی طرح نہیں کہ روشنیوں سے ہار مان کر آدھی رات سے پہلے منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ میں بستر پر لیٹا ہی تھا کہ تاریکی اور خاموشی میں ایک ترنم گونجا۔ میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ آواز کی کشش نے مجبور کیا اور میں کشاں کشاں اس کنوئیں پر جا پہنچا۔ آواز دیوار کے اس پار رشید صاحب کے مردانہ صحن سے آرہی تھی۔ جگر مراد آبادی اپنے وجد آور ترنم سے غزل سنا رہے تھے۔

میں کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گیا۔ شروع گرمیوں کی ٹھنڈی رات۔ گئی بہار کی بچی بچائی خوشبو لیے آہستہ آہستہ چلنے والی پُروا۔ مطلع بالکل صاف۔ نہ بادل کا ٹکڑا، نہ گرد و غبار، نہ چمنی چولھے کا دھواں۔ فضا میں صرف غزل کے مصرعے تیر رہے تھے۔ سوچ کے پَر کھل گئے۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں