اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

ہر تقریر دعائیہ تھی اور ہر دُعا قبول ہو رہی تھی!

اشتہار

حیرت انگیز

مغلوں کا ذکر ہو تو بات بابر سے شروع کرتے اور عالمگیر پر ختم کرتے ہیں۔ بابر نے جتنے مینار بنائے ان میں ریختہ (عمارتی مسالا) بالکل استعمال نہیں ہوا کیونکہ وہ جنگ کے میدان میں تعمیر ہوئے تھے۔ تزک میں بابر نہایت ایمانداری اور اطمینان سے ان میناروں کا ذکر کرتا ہے جو اس نے جا بجا دشمنوں کے سروں کو کاٹ کر بنائے تھے۔

رانا سانگا سے لڑائی ہوئی تو شراب سے توبہ بھی کی اور فتح یابی پر ’’کلہ مینار‘‘ بنوایا۔ ایک اور لڑائی میں اچانک دشمن کے ہزاروں ننگے سپاہی تلواریں نیزے لہراتے مقابلے پر آنکلے۔ وہ اپنے بیوی بچوں کو قتل کر کے آئے تھے اور دنیا سے یہاں تک تعلقات منقطع کر لئے تھے کہ لباس سے بھی عاری تھے۔ گھمسان کا رن پڑا، بابر کی زرہ پوش سپاہ جیت گئی اور یوں ستر پوشی کا ایک اور جواز پیدا ہو گیا۔ فتح کی خوشی میں بابر نے قطعۂ تاریخ کہا اور اس کے بعد کا حال تزک میں یوں لکھا ہے۔ ’’میں نے حسب دستور چندیری کے شمال مغربی پہاڑ پر دشمنوں کے سروں کا ایک مینار بطور یادگار فتح چنوایا۔‘‘

بابر کے عہد سے اورنگ زیب کے دور تک مغل فنِ تعمیر میں بہت ترقی ہو گئی۔ کلہ مینار کے بجائے دولت آباد میں فتح مینار بنایا گیا۔ چار نہایت خوبصورت مینار لاہور کی جامع مسجد میں بھی بنائے گئے۔ یہ سنگِ سرخ کے سہ منزلہ ہشت پہلو مینار جن کے اوپر سفید گنبدی بنی ہوئی ہے۔ سادگی اور صناعی کے لاجواب نمونے ہیں۔ پختہ بنیاد مگر آلائش دنیا سے بلند۔ یہ توحید، حقانیت اور رفعت کی علامت ہیں۔ اس برصغیر میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا ہے وہ مینارِ قرار داد پاکستان ہے۔ یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں مگر ان کے درمیان یہ ذرا سی مسافت جس میں سکھوں کا گردوارا اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں تین صدیوں پر محیط ہے۔ میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا اِن تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا۔ مسجد کے مینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی بات کہہ دی، جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں، جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے، ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو، اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہو جائے۔ تو صدیاں یوں ہی گم ہو جاتی ہیں۔ آج پھر مجلسِ تعمیر کی نشست تھی۔ میں نے پوچھا اس مینار کی بنیادیں کتنی گہری ہیں اور ان میں کون سا مسالا لگایا گیا ہے۔ جواب ملا کہ ماہرین کے تجزیے اور تحقیق کے مطابق بنیادیں بہت گہری کھودی گئی ہیں اور ان کی پائیداری کے لیے اعلیٰ درجے کا ریختہ استعمال کیا ہے۔ میں نے دل میں سوال دہرایا، یہ تو پہیلی تھی جس میں بنیادوں کی گہرائی سے مراد محض یادوں کی گیرائی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کیں، میرے سامنے سنگِ بنیاد نصب کرنے کا منظر تھا۔

ایک اسپیشل ٹرین پٹیالہ سے چلی اور صبح ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر کھڑی ہو گئی۔ وائسرائے گاڑی سے نیچے اترے تو مسٹر پولاک نے جو کمشنر تھے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد دو انگریز آگے بڑھے۔ ایک ڈسٹرکٹ جج تھا اور دوسرا کلکٹر۔ پاس ہی ایک ہندوستانی بھی کھڑا تھا، بھاری بھرکم اور طویل قامت، اس کی پیشانی ترکی ٹوپی میں اور چہرہ گھنی داڑھی میں چھپا ہوا تھا، اس نے بھی ہاتھ ملایا اور وائسرائے کو اپنے گھر لے گیا۔ دوپہر کو سنگِ بنیاد کی تنصیب کی تقریب تھی۔ ایک وسیع میدان میں پنڈال سجا ہوا تھا معزز مہمانوں کا ہجوم تھا، ایک طرف کچھ فاصلے پر بہت سے ہاتھی کھڑے تھے جن پر سوار ہو کر مہمان اس تقریب میں شریک ہونے آئے تھے۔ میزبان کو مصروف دیکھ کر خیال آتا تھا کہ واقعی ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہوتا ہے۔ تقریب تقریروں سے شروع ہوئی اور جب تقریریں ہو چکیں تو مہمانِ خصوصی اُٹھ کر شامیانے کے اس سرے پر گئے جہاں بنیاد رکھنی تھی۔ پہلے کچھ کاغذات اور سکے دفن کئے گئے پھر ایک پتھر نصب ہوا۔ اس پتھر پر تین بار ضرب لگا کر لارڈ لٹن نے کہا، میں اعلان کرتا ہوں کہ یہ پتھر درست اور موزوں طرح سے نصب ہو گیا ہے۔ یہ اعلان 2 جنوری 1877ء کو علی گڑھ میں کیا گیا تھا۔ یہ درست اور موزوں طور سے نصب ہونے والا پتھر یوں تو ایک کالج کا سنگِ بنیاد تھا، مگر جس روز یہ نصب ہوا گویا اس روز مینار پاکستان کی بنیادیں بھی بھری گئیں۔ سید محمود نے جو سپاس نامہ پڑھا اس میں لکھا تھا کہ یہ ملک بھر میں پہلا ادارہ ہے جو مسلمان ایک علیحدہ طبقے کی حیثیت سے اپنی انفرادی ضرورت اور متحدہ خواہش کے تحت قائم کر رہے ہیں اور اس مدرسے کی بنیادیں تاریخ کے ان تقاضوں میں ملیں گی جن سے یہ ملک پہلے کبھی دو چار نہیں ہوا۔ لیجئے ہم علی گڑھ کی بنیادوں میں مینار پاکستان کی بنیادوں کو ڈھونڈ رہے تھے اور سپاس نامہ کہتا ہے کہ علی گڑھ کی بنیادیں تاریخ کے تقاضوں میں ملیں گی۔ اس روز بہت سی تقریریں ہوئیں اور مقرروں نے مستقبل کی بات کچھ ایسے کی جیسے انہیں غیب کا علم ہو۔ وائسرائے نے کہا کہ فہم و فراست کی مستقلِ اجارہ داری قدرت نے کسی ایک نسل کو نہیں دے رکھی اور نہ اِسلام میں کوئی ایسی بات ہے جو فہم انسانی اور تہذیبِ عالمی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہند کے مسلمان نئے میدان فتح کریں اور اپنے پاک عزائم کو پورا کرنے کے لئے تازہ مواقع حاصل کریں۔ ایک انگریز افسر مسٹرکین (Keene) نے کہا کہ آج ہم نے جو کچھ دیکھا ہے یہ جہاں تک پیش گوئی ممکن ہے ایک وسیع اور اہم تحریک کی ابتدا ہے جو تاریخ میں جگہ حاصل کرے گی۔ سپاس نامے میں لکھا تھا کہ یہ بیج جو آج ہم نے کاشت کیا ہے اس سے ایک تناور درخت نکلے گا جس کی شاخیں بھی زمین میں جڑ پکڑ لیں گی اور ان سے نئے اور توانا درخت نکل آئیں گے۔ ہر تقریر دعائیہ تھی اور ہر دُعا قبول ہو رہی تھی، معلوم ہوتا تھا کہ سر سید کے ہاتھوں وہ نیکی ہو رہی ہے جس کے اجر اور اثر کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے کہ اس عمل کی حالت ’’ایسی ہے جیسے ایک دانے کی حالت جس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال کے اندر سو دانے ہوں او یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں۔‘‘ علی گڑھ کو جو افزونی اور وسعت خدا نے عطا فرمائی اور جس طرح یہ مدرسہ آہستہ آہستہ ایک مرکز بن گیا اس کا ذکر ایک بار مجلسِ تعمیر میں ہو رہا تھا، مجھے وقت کے کتنے ہی سنگِ میل یاد آئے جو تقریباً سو سال کی مدت پر پھیلے ہوئے ہیں مگر علی گڑھ کی نسبت سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں بھی اس کارواں میں شامل ہوں جو کبھی وہاں سے گزرا تھا۔ یہ 1857 ہے، سنگِ میل پر خونِ ناحق کے چھینٹے ہیں، سماں بے نور ہے کچھ نظر نہیں آتا۔ خستہ جانوں کا ایک قافلہ ہے جس میں غالبِ خستہ بھی شامل ہے۔ غالب ہندو کا مقروض ہے، انگریز کو پینشن کی عرضی دیتا ہے مگر اس کا جواب ہی نہیں آسکتا۔ لال قلعے کی آخری شمع اب خاموش ہو چکی ہے۔ کسی کو سوچنے کا بھی یارا نہیں۔

(انشا پرداز اور ادیب مختار مسعود کی کتاب ’’آوازِ دوست ‘‘ سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں