The news is by your side.

Advertisement

سی آئی اے چیف یہ کیوں کہہ رہا تھا؟

دنیا کے طاقت وَر ممالک پر سازش کے ذریعے منتخب حکومتوں کو گرانے یا اپنے ناپسندیدہ اور ‘باغی’ حکم رانوں کو اقتدار سے ہٹانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ امریکا اور روس پر مداخلت اور ان کے خفیہ اداروں کی کارروائیوں پر مختلف کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔

یہاں‌ ہم اسی متعلق اردو کے ممتاز اور صاحبِ اسلوب ادیب مختار مسعود کی ایک تحریر سے اقتباس پیش کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

وہ جن دنوں آر سی ڈی کے سیکریٹری جنرل تھے تو تنظیم کے ہیڈ کوارٹر واقع تہران میں تعینات تھے اور یہ وہ وقت تھا جب شاہ ایران کا تختہ الٹا جا رہا تھا۔ انہوں نے ایران میں اپنے قیام کی یادادشتوں پر مشتمل ایک کتاب ’لوحِ ایام‘ لکھی۔

اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ آر سی ڈی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انہیں شہنشاہ ایران نے ایک بار خصوصی دعوت پر اپنے خاص جزیرے پر مدعو کیا۔ تہران سے جو جہاز انہیں اس جزیرے پر لے کر جا رہا تھا اس کا پائلٹ پاکستان ایئر فورس کا سابق آفیسر تھا۔ اس نے راستے میں مجھے اس جزیر ے کی خاصیت اور یہاں ٹھہرائے جانے والے خاص مہمانوں کے بارے میں بتانا شروع کیا کیونکہ یہ اس کے فرائضِ منصبی کا حصہ تھا۔

جب وہ یہ سب کچھ بتا چکا تو کہنے لگا، ’سر، اس جزیرے پر شہنشاہ کے پچھلے مہمان سی آئی اے کے چیف تھے۔ جب میں انہیں یہ ساری باتیں بتا رہا تھا تو ان کے منہ سے نکل گیا کہ ’اب یہ شان و شوکت تھوڑی دیر کی ہے۔‘

پائلٹ نے کہا، ’سر، بظاہر شاہ مضبوط ہے اور ابھی تو اس نے اپنی شہنشاہیت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن بھی منایا ہے، پھر سی آئی اے چیف یہ کیوں کہہ رہا تھا؟‘

لیکن بعد کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں کہ ایران میں شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا اور وہاں ایک اسلام پسند حکومت برسر اقتدار آ گئی۔ تاہم یہ حکومت امریکا کو اب تک چیلنج کرتی آئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں