The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن کی رائے کو استعمال کرکےہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے، مولانافضل الرحمان

اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کو سمجھنا ہوگا وہ ملک کے ساتھ کیا کررہی ہے، دو اتحادیوں کے درمیان جھگڑے کا غلط فائدہ نہ اٹھایاجائے، اپوزیشن کی رائے کو استعمال کرکے ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ دوبارہ کیوں شروع ہوگئی ہے، ہم نے بہت برداشت کیا،کب تک برداشت کاامتحان لیا جائے گا، ہم اپنی کردار کشی کو برداشت نہیں کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آپ کی دہشت گردی کی اصطلاح کو قبول نہیں کریں گے، حکومت کو سمجھنا ہوگا وہ ملک کے ساتھ کیا کررہی ہے، فاٹا انضمام پر ہمارے حل کے باوجود معاملات دوبارہ اٹھ رہے ہیں۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام ( ف ) نے کہا کہ ہمیں ایک نئی مشکل کی طرف دھکیلا جارہاہے، ہر معاملے کو قوم کے پاس لے جائیں،عوامی منظوری لی جائے،  انتخابات اہم نہیں ملک اہم ہے، اختلاف رائے کے باوجود حکومت کو سپورٹ کیا اور مدد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت مغرب کے دباؤ میں ہے، آئی ایم ایف، عالمی بینک و ادارے پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ، ایٹم بم ہمارا ہے،استعمال کرنے کا حق چھینا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کا معاملہ وزارت سیفران میں آتا ہے، فاٹا سےمتعلق بل کسی دوسری قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا،جاتی حکومت کو بجٹ پیش کرنے کا بھی حق نہیں تھا ، ملکی حالات ایسے نہیں کہ فاٹا کی آئینی حیثیت کو چھیڑا جائے۔

جمعیت علمائے اسلام ( ف ) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فاٹا سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہ کرنے کی بات ہوئی تھی ، فاٹا کے عوام کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہو گا، فاٹا کے معاملے میں جلد بازی اور کشمیر  پر سستی ہے، یو این نمائندے نے بتایا کہ فاٹا اصلاحات ان کا ایجنڈا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دو اتحادیوں کے درمیان جھگڑے کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے، اپوزیشن کی رائے کو استعمال کرکے ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ حکومت فاٹا پر طے شدہ باتوں سے منحرف ہو رہی ہے، فاٹا کے معاملے پر قبائلیوں کی رائے لی جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں