The news is by your side.

Advertisement

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ، خرچہ کتنا آئے گا؟

اسلام آباد : جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ میں دس لاکھ افراد اسلام آباد لانے کا دعویٰ کررکھا ہے، اتنے لوگوں کو لانے کے لیے بسوں کا کرایہ، دو وقت کا کھانا، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر اخراجات کے ساتھ ایک مہینے تک دھرنا دیا جائے تو تین ارب ساٹھ کروڑ سے زیادہ خرچہ  آئے گا۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت اور آزادی مارچ و دھرنے پر آنے والے اخراجات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

فضل الرحمان کے پاس بیس لاکھ روپے بینک بیلنس اور ساڑھے نو لاکھ روپے جیولری جبکہ پندرہ لاکھ مالیت کا پلاٹ، شورکوٹ میں بھی سات لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ ہے، اثاثوں کی مجموعی مالیت صرف اکاون لاکھ روپے بنتی ہے۔

تاہم آزادی مارچ میں دس لاکھ لوگوں کو لانے کے دعوے کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا خرچہ، دو وقت کا کھانا، ساؤنڈ سسٹم سمیت دیگر اخراجات پر صرف ایک دن کا خرچہ کروڑوں روپے بنتا ہے۔

فضل الرحمان ، دس سے پندرہ لاکھ لوگوں کو اسلام آباد کیسے لائیں گے؟ دو وقت کا کھانا کیسے کھلائیں گے؟ دیگر انتظامات پر کروڑوں روپے کا فنڈ کون دے گا؟

بھاری لشکر کو اسلام آباد تک پہنچانے کے لیے کم سے کم پچیس ہزار بسوں کی ضرورت ہوگی، فی بس کرایہ دس ہزار روپے رکھا جائے تو صرف بسوں کا کرایہ ہی  پچیس کروڑ بن جاتا ہے۔

دھرنے کے لیے اسٹیج اور ساؤنڈ سسٹم اور روشنی کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔ جس پر کم سے کم یومیہ خرچہ پانچ لاکھ بنتا ہے اور مہینے کا خرچہ ایک  کروڑ پچاس لاکھ روپے آئے گا۔ دس لاکھ لوگ کھائیں گے کہاں سے؟ فی آدمی کم سے کم ساٹھ روپے کے حساب سے دو وقت کھانا کھائے تو یومیہ بارہ کروڑ بنتا ہے۔

فضل الرحمان کے مارچ اور دھرنے کا کم سے کم ایک ماہ کا خرچہ تین ارب ستاسی کروڑ روپے کے قریب بنتا ہے، جو لگ بھگ پچیس ملین ڈالر ہوگا۔

سوال اٹھتا ہے کہ مولانا اربوں روپے اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟ جے یو آئی پر اتنی بھاری سرمایہ کاری کون کر رہا ہے؟ اس دھرنے کا ایجنڈا اور مقاصد کیا ہیں؟ سیاسی رہنما خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ کہیں یہ معاملہ فارن فنڈنگ کا تو نہیں۔

واضح رہے جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، ملک بھر سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں