اتوار, اپریل 19, 2026
اشتہار

جب ایک سِن رسیدہ گورکن علّامہ راشد الخیری پر بگڑے!

اشتہار

حیرت انگیز

علّامہ راشد الخیری کو ان کی دل سوز نثر کی وجہ سے ”مصورِ غم” بھی کہا جاتا ہے۔ وہ متحدہ ہندوستان کی نہایت قابل اور ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ ایک درد مند اور ایسے باہمّت انسان بھی تھے جنھوں نے عورتوں کے حقوق اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بہت کام کیا۔ انھیں اردو ادب کے اوّلین معماروں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ ان کے دور میں ہندوستان میں جہالت اور توہمات عام تھے جن کا راستہ مولانا نے اپنی تحریروں سے روکا اور اصلاحِ معاشرہ کے لیےقلم اور اشاعت و طباعت کو ذریعہ بنایا۔

اردو کے صاحب طرز نثر نگار اور مصنّف ملّا واحدی دہلوی ان کے ایک بڑے معترف گزرے ہیں۔ انھوں نے مولانا کی زندگی، ان کی پاکیزہ طبیعت اور عادات کے ساتھ اصلاحِ معاشرہ کی غرض سے ان کی مساعی کو بیان کیا ہے۔ پیشِ نظر پارہ راشد الخیری کے عجز اور وضع داری سے متعلق ہے۔ ملّا واحدی دہلوی لکھتے ہیں:

حضرت شاہؔ ولی اللہؒ اور حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے خاندانی قبرستان مہدیوں میں ستّر اسّی برس کے ایک صاحب مدتوں سے رہتے ہیں۔ ان کا اسمِ گرامی بھی عبدالعزیزؔ ہے۔ یہ عبدالعزیزؔ خود کانٹے کے آدمی ہیں۔

ان سے بھی آپ کا تعارف کرا دوں۔ بہت سیدھے سادے بھولے بھالے اور نیک آدمی ہیں مگر زبان اور طرزِ گفتگو کرخنداری ہے۔ کفن دفن کے اہتمام پر گزارہ ہے۔ روٹی ایک دوست کے ہاں کھاتے ہیں۔ کسی میّت سے قبر کی زمین کے پچہتّر روپے مانگ رہے تھے۔ میت والوں نے کہیں کھانا کھلانے والے دوست سے سفارش نامہ حاصل کرلیا کہ پچاس پر معاملہ کر لو۔ بس پھر ایک پیسہ لینا حرام تھا۔ زمین مفت دے دی۔ ایک دوست نے عبدالعزیزؔ صاحب سے مرتے وقت خواہش کی کہ فلاں جگہ قبر کے لیے چاہتا ہوں۔ وہ جگہ آسانی سے نہ مل سکتی تھی۔ عبدالعزیزؔ صاحب کے ادبی جواب کی داد دیجیے۔ ارشاد کیا، ’’میان کلّن کیا یاد کرو گے۔ تمہیں تو دھونس ہی دیں گے۔‘‘

مولانا راشدالخیری کی اور عبدالعزیز صاحب کی بڑی مزیدار باتیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ مولانا کو جہاں مل جاتے، وہیں مولانا ان سے گھل مل کر باتیں کرنی شروع کر دیتے۔ ایک دفعہ کی بات سنیے،

حضرت سلطان نظام الدین اولیاؒ کی سترہویں تھی۔ مولانا فیض بازار کی سڑک پر کھڑے سترہویں میں جانے والوں کے تانگوں اور موٹروں کا تماشہ دیکھ رہے تھے کہ اتنے میں عبدالعزیز صاحب تشریف لائے، مولانا نے پوچھا، ’’کہاں سے؟‘‘

عبدالعزیزؔ صاحب بولے میاں سلطان جی سے چلا آتا ہوں۔ (خواجہ) حسن نظامی کے ہاں تو ہُن برس رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا، عبدالعزیزؔ تمہیں خواجہ صاحب پر رشک آتا ہے تو تم بھی پیری مریدی کرنے لگو۔ عبدالعزیزؔ بولے میاں ہمیں رشک کیوں آنے لگا، مولوی صاحب تم نے قرآن تو پڑھا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (گالی دے کر) بندے! سارے گناہ معاف کر دوں گا۔ ایک سے لے کر ہزار گناہ کرکے آجا۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن (گالی دے کر) اگر تُو نے شرک کیا تو سمجھ لے (بہت ہی فحش گالی)۔

بے پڑھے لکھے تین ہی دوستوں کا مجھے علم تھا۔ مولانا ان سے اس طرح ملتے تھے جیسے خود بھی بے پڑھے لکھے ہیں۔ عبدالعزیزؔ کے اس سوال سے کہ تم نے قرآن تو پڑھا ہوگا، صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوست انہیں اپنے سے صرف روپے پیسے میں اونچا سمجھتے تھے اور یہ ایسا فرق تھا کہ جسے مولانا چھپا نہ سکتے تھے۔ ورنہ غالباً مولانا نے کبھی ان پر اپنی اہمیت جمانے کی کوشش نہیں کی۔ بالکل اسی طرح ملا کیے، جس طرح بچپن میں ملتے تھے اور انہیں یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ مولانا ستّر اَسّی مقبول کتابوں کے مصنّف ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم اور ترتیب کے لیے ایسی جدوجہد کرچکے ہیں کہ کروڑوں آدمی ان کے گرویدہ ہیں۔ ملک کے مصلحوں میں ان کا شمار ہے۔ مولانا جاہل دوستوں پر کیا دھونس بٹھاتے، خود ان کو بھی اپنے بلند مرتبہ کا احساس عمر میں دو چار بار ہی ہُوا ہو تو ہُوا ہو۔ مولانا جیسا بے نیاز انسان چشمِ فلک نے کم دیکھا ہوگا۔ دنیا ان کی بابت کیا رائے رکھتی ہے، اسے وہ سوچتے ہی نہ تھے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں