The news is by your side.

Advertisement

سرکاری تحقیقاتی ادارے نے ملتان کے پانی کو مضر صحت قرار دے دیا

ملتان: سرکاری تحقیقاتی ادارے نے ملتان کے پانی کو مضر صحت قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے تحقیقات کے بعد واٹر کوالٹی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ملتان کا پانی پنجاب میں سب سے زیادہ آلودہ پایا گیا ہے، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملتان کے پانی میں آلودگی کی شرح 94 فی صد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملتان کے پانی میں آرسینک کی مقدار 63 فی صد سے زائد ہے، جب کہ 5 سال میں ملتان کے پانی میں 10 فی صد سے زائد آلودگی میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق بہاولپور کا پانی 76 فی صد آلودہ ہے، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز نے گوجرانوالہ شہر میں سے پینے کے پانی کے 14 نمونے لیے اور 7 نمونوں میں آلودگی پائی گئی، گوجرانوالہ کے پانی میں آلودگی کی شرح 50 فی صد ہے۔

کونسل نے تجزیے کی بنیاد پر شہر کے کچھ علاقوں کے پانی کو ‘لو رِسک’ اور کچھ کو ‘میڈیم رسک’ قرار دیا، مجموعی طور پر گزشتہ سالوں کی نسبت گوجرانوالا کے پینے کے پانی کے معیار میں بہتری آئی ہے۔

ملتان: 2019 کا بلدیاتی ایکٹ معطل

ملتان میں 2019 کا بلدیاتی ایکٹ معطل کر کے 2013 کا ایکٹ بحال کر دیا گیا ہے، نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنرز، اور ڈپٹی کمشنرز کو اثاثہ جات بلدیاتی اداروں کو واپس کرنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔

ان اثاثہ جات میں گاڑیاں، دفاتر اور بقایا جات واپس کرنا شامل ہے، جب کہ میئرز کو گاڑیاں واپس ملیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں