پاکستان میں پچھلے تین سالوں میں مختلف ملکی اور بین الاقوامی کمپنیاں ملک سے اپنا کاروبار بند کر چکی ہیں، حالیہ برسوں میں بلند افراطِ زر، بلند شرح سود، ڈالر کی کمی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگے خام مال کی وجہ سے جہاں عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی، وہیں پر کاروباری شعبہ بھی ملک میں کاروبار پر بڑھتی ہوئی لاگت کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔
پاکستان کے ماہرین معشیت اس موجودہ معاشی صورت حال کو روپے کی قدر میں کمی اور پالیسیوں میں عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنا منافع بیرون ملک ٹرانسفر کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔
ویڈیو رپورٹ: پاکستان کی شہری آبادی مردم شماری میں بتائی گئی تعداد سے تقریباً دوگنی ہونے کا انکشاف
ماہرین معیشت ان کمپینیوں کی بندش کو سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے ایک منفی اشارہ قرار دے رہے ہیں، ان کے مطابق جب بڑی عالمی کمپنیاں ملک چھوڑتی ہیں تو یہ پیغام جاتا ہے کہ پالیسیوں کی غیر یقینی صورت حال، کرنسی کی قدر میں رد و بدل کے خطرات اور ریگولیٹری مسائل مارکیٹ کی کشش پر حاوی ہو گئے ہیں۔
تاہم، کچھ معاشی حلقے پاکستان سے ان کمپنیوں کے انخلا کی وجہ مقامی مسائل کی بجائے اپنی ری اسٹرکچرنگ کا حصہ ہونا قرار دیتے ہیں۔
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔


