The news is by your side.

Advertisement

ایک سے زائد اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین فیس بک کے لیے درد سر بن گئے

کیا آپ کا شمار بھی ان افراد میں ہوتا ہے جن کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک سے زیادہ اکاؤنٹس ہیں؟ اگر ہاں تو جان لیں کہ ایسے افراد فیس بک کے لیے آج کل درد سر بنے ہوئے ہیں۔

امریکی روزنامے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کو آج کل ایک عجیب مشکل کا سامنا ہے اور وہ یہ جاننا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم میں صارفین کی حقیقی تعداد کتنی ہے۔

رپورٹ میں فیس بک کی داخلی دستاویزات کی بنیاد پر بتایا گیا کہ سوشل نیٹ ورک کو یہ تعین کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کہ اس کے متحرک صارفین کی تعداد کیا ہے کیونکہ متعدد افراد نے اپنے ایک سے زیادہ اکاؤنٹس بنائے ہوئے ہیں۔

رواں سال موسم بہار میں کمپنی کے اندر پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئے اکاؤنٹس میں اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ یہ ایسے افراد کے ہوں گے جن کے پہلے ہی سوشل نیٹ ورک پر اکاؤنٹس ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فیس بک نے 5 ہزار حالیہ سائن اپس کی جانچ پڑتال کی تو دریافت ہوا کہ 32 سے 56 فیصد اکاؤنٹس ایسے صارفین نے بنائے جن کے پہلے بھی اس سوشل نیٹ ورک پر اکاؤنٹس تھے۔

اسی طرح مئی 2021 کے ایک اور میمو میں مبینہ طور پر دریافت کیا گیا کہ امریکا میں عمر کی تیسری دہائی میں موجود متحرک صارفین کی تعداد اس عمر کی مجموعی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔

اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ فیس بک کے روزانہ کی بنیاد پر متحرک صارفین کی تعداد زیادہ قابل اعتبار نہیں۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کی تعداد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کمپنی کی جانب سے اشتہاری کمپنیوں سے شیئر کی جانے والی تفصیلات کے مستند ہونے پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے فیس بک کے ایک نمائندے نے بتایا کہ یہ کوئی انکشاف نہیں کہ ہم ایک سے زیادہ اکاؤنٹس والے صارفین پر تحقیق کررہے ہیں مگر اس رپورٹ میں مکمل کہانی بیان نہیں کی گئی۔

نمائندے کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں ڈپلیکیٹ اکاؤنٹس کے تخمینے کو بدلا گیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے ایسے افراد کو بین کیا جاتا ہے جن کے متعدد ذاتی اکاؤنٹس ہوتے ہیں کیونکہ کمپنی خود کو حقیقی شناخت والا پلیٹ فارم قرار دیتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں