ممبئی : انتہا پسند ہندوؤں کی ہنگامہ آرائی، پاک بھارت کرکٹ حکام کی ملاقات منسوخ -
The news is by your side.

Advertisement

ممبئی : انتہا پسند ہندوؤں کی ہنگامہ آرائی، پاک بھارت کرکٹ حکام کی ملاقات منسوخ

ممبئی : انتہا پسند ہندوؤں نے پاکستان اور بھارتی بورڈ کے مشترکہ اجلاس میں دھاوا بول دیا۔ مظاہرین شہر یار خان اور نجم سیٹھی کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کرہے تھے، ہنگامہ آرائی کے سبب متعلقہ حکام نے ملاقات کومنسوخ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ممبئی میں بی سی سی آئی اور پی سی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر شیو سینا کے بے لگام کارکنان نےبی سی سی آئی کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا۔

مشتعل کارکنان نے پاکستان اورچیئر مین پی سی بی کیخلاف شدید نعرے بازی کی، اور پاک بھارت سیریز کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربرا ہ نجم سیٹھی کے ممبئی آنے پر شیوسینا کے کارکن بی سی سی آئی کے دفتر کے باہر اکٹھے ہوگئے اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔

ہندو انتہا پسندوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ شہر یار خان واپس جاﺅ ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان دسمبر میں سیریز شیڈول تھی لیکن موجودہ صورتحال میں بی سی سی آئی کی جانب سے سیریز کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے مذاکرات کی جگہ تبدیل کردی۔ اور بعد ازاں عہدیداران کی ملاقات کو فی الحال منسوخ کردیاگیا۔

دھاوے کے موقع پر شہریار خان بی سی سی آئی کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے کہ شیوسینا کے کارکنوں نے دفتر کے باہران کیخلاف نعرے لگانے شروع کر دیئے ۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر دس سے بارہ مشتعل افراد کو گرفتا کرلیا۔اس موقع پر شیو سینا کے ایک رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ملک کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،پاکستان کو اپنی روش تبدیل کرنا ہوگی۔

علاوہ ازیں بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان نے بتایا کہ وہ نجم سیٹھی کے ہمراہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شیشان منوہر کی دعوت پر انڈیا آئے تھے اور آج ان کی بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام سے ملاقات طے تھی۔

یاد رہے کہ شیو سینا ماضی میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو ہندوستان میں کھیلنے پر دھمکیاں دیتی آئی ہے۔ پاکستان کے نامور غزل گائیک غلام علی کا جمعہ 9 اکتوبر کو ممبئی میں ہونے والا کنسرٹ بھی شیو سینا کی ان دھمکیوں کے بعد منسوخ کردیا گیا تھا۔

جبکہ گذشتہ ہفتے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی ممبئی میں تقریب رونمائی سے محض چند گھنٹے قبل تقریب کے آرگنائزر سدھیندرا کلکرنی پر شیو سینا کے کارکنوں نے سیاہ رنگ کے پینٹ سے حملہ کردیا تھا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اے آر وائی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی کے وفد کے ساتھ شِیو سینا کی طرف سے کئے جانے والے سلوک کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ شِیو سینا کو چاہیئے کہ شہریارخان کا منہ کالا کریں اور جب شہریار خان واہگہ بارڈر پر آئیں تو وہاں پر بھی ان کا منہ کالا کیا جانا چاہئیے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات پر انڈیا کا پوری دنیا میں امیج خراب ہورہاہے لیکن ہمارے چیئرمین پی سی بی کرکٹ ڈپلومیسی کرنے اور انڈیا کا امیج بہتر کرنے کیلئے انڈیا چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ’ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی باقیات جو انڈیا کی دلالی کرتی پھررہی ہے وہ اسی سلوک کی مستحق ہے۔

سابق چیئرمین پی سی بی توقیر ضیا اور خالد محمود نے بھارت میں شیوسینا کی کارروائیوں کی بھرپور انداز میں مذمت کر تے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت پی سی بی رہنماؤں کی سخت سیکیورٹی فراہم کرے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم اپنے کسی مہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔

جبکہ خالد محمود نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے مودی سرکار اس واقعے میں خود ملوّث ہے، پی سی بی کے سابق سربراہ عارف علی خان عباسی کا کہنا تھا کہ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم شیو سینا سے ہم اور کیا توقع کرسکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں