The news is by your side.

Advertisement

بمبئی کی عدالت نے گائے کے گوشت سے پابندی ہٹا دی

بمبئی: بھارتی ریاست مہاراشٹر میں گزشتہ سال فروری میں گائے کو ذبح کرنے اور گوشت کھانے کے حوالے سے نافذ کئے گئے قانون کے کچھ حصوں کو ممبئی ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے ریاست مہاراشٹر میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کررکھی تھی لیکن دوسری ریاستوں سے گائےکے گوشت کی درآمد کرنے، اپنے پاس رکھنے اور کھانے سے پابندی ہٹا دی ہے۔

گزشتہ سال فروری میں بھارتی صدر نے جانوروں کے تحفظ کا قانون نافذ کیا تھا، قانون کےمطابق گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن بعد میں اس قانون میں ترمیم کر کے گائے کے ساتھ ساتھ بیل اور بچھڑے کو بھی شامل کرلیا گیا تھا۔

قانون کےتحت مہاراشٹر میں  گائے کا گوشت کھانے اور گائےذبح کرنے پر پانچ سال قید اور10 ہزار روپے جرمانے کی سزا جبکہ گائے برآمد ہونے کی صورت میں 2 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال کی سزا کا اعلان کیا گیا تھا۔

گائے کے گوشت کھانے کے سخت قانون کو ممبئی کے رہائشی عارف کپاڈیا اور وکیل ہریش جگتیانی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جبکہ  وکیل وشال سیٹھ  اور طالب علم شائنا سین نے بھی اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

اس موقع پر جگتیانی نےبرطانوی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کی پابندی سر ا سر غلط ہے کیونکہ مہاراشٹر میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں جن میں سے کئی لوگ گائے کا گوشت کھانا چاہتے ہیں۔

جمعے کو ہونے والی سماعت میں ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں جانوروں کے تحفظ (ترمیم) کے قانون کو قائم رکھتے ہوئے اس کی کچھ دفعات کو خارج کر دیا گیا ہے۔

کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب مہاراشٹر میں گائے کا گوشت رکھنا اور کھانا جرم نہیں سمجھا جائے گا بلکہ فیصلے کے مطابق دیگر ریاستوں سے بھی گائے کا گوشت یہاں لا کر فروخت کیا جاسکتا ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں