The news is by your side.

ہندو انتہا پسندوں سے تنگ آکر نوجوان اداکار نے ’خدا حافظ‘ کہہ دیا

ممبئی: بھارت کے نوجوان مزاحیہ اداکار اور اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نے انتہا پسندوں سے تنگ آکر انڈسٹری چھوڑنے کا اشارہ دے دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق منور فاروقی کو گزشتہ دو ماہ سے ہندو انتہا پسند تنظیموں اور رہنماؤں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اُن کے لگاتار 12 پروگرام منسوخ ہوچکے ہیں۔

انتہا پسند ہندوتوا گروپس کی جانب سے نوجوان اداکار کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

آج کرناٹکا کی پولیس نے منور فاروقی متنازع شخصیت قرار دیتے ہوئے بنگلور میں پہلے سے شیڈول پروگرام کو انتظامیہ سے زبردستی نقصِ امن کے خدشے کے پیش نظر ملتوی کروایا۔

پولیس حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ منور فاروقی کے بیانات اور پرفارمنس کی وجہ سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، اسی باعث ایک انتہا پسند گروپ نے پروگرام میں افرا تفری پھیلانے اور امن کو خراب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو صورت حال کو بہت زیادہ خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں: بھارت کے نوجوان مسلم اداکار کو ہندو انتہا پسندوں کی سنگین دھمکیاں

اس سے قبل ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کی درخواست پر پولیس نے نوجوان کامیڈین کو بلاجواز گرفتار کرلیا تھا، جس کے بعد انہیں عدالت سے ضمانت ملی تھی۔

اس ساری صورت حال کو دیکھنے کے بعد اب منور فاروقی نے انڈسٹری چھوڑنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خدا حافظ، میں نے اپنا کام پورا کرلیا، نفرت جیت گئی اور اداکار ہار گیا‘۔

منور فاروقی نے اپنے بیان میں بتایا کہ پروگرام کے 600 سے زائد ٹکٹس فروخت ہوچکے تھے، پولیس نے بجائے عوام کو تحفظ دینے کے ہندو انتہا پسند گروپ کے سامنے ہتھیار ڈال  دیے، آپ مجھے میرے لطیفوں کی وجہ سے جیل میں ڈال دیں مگر میں اپنا پروگرام منسوخ ہوتا نہیں دیکھ سکتا، یہ بہت زیادتی کی بات ہے‘۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Munawar Faruqui (@munawar.faruqui)

Comments

یہ بھی پڑھیں