میونخ (15 فروری 2026): میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں چینی وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے خود کو طاقت ور سمجھنے والی قوتوں کو دنیا کی تمام اقوام کے تحفظ کے لیے بہتر رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ دنیا کو تصادم نہیں، تعاون کی ضرورت ہے، اگر کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو بڑی طاقتوں کو مثال بننا ہوگا۔
انھوں نے کہا بڑی ریاستیں محاذ آرائی کی بہ جائے تعاون کی قیادت کریں، دہرا میعار اختیار کرنے کہ بہ جائے بین الاقوامی قوانین کی پاس داری کریں، اپنی مرضی مسلط کرنے کی بہ جائے برابری کو فروغ دیں۔
وانگ یی نے خود غرضی پر مبنی یک طرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے تلقین کی کہ کھلے پن اور شراکت داری کو اپنایا جائے، اور بین الاقوامی تعلقات میں تمام ممالک کو برابر کے حقوق اور مواقع ملنے چاہئیں، اور چھوٹے ملکوں کو بھی بین الاقوامی نظام میں مؤثر کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
جرمنی میں ایرانی حکومت کے خلاف 2 لاکھ سے زائد افراد کا زبردست احتجاج
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے ہفتے کے روز امریکا اور چین کے درمیان علیحدگی کی ’’فوری اور جذباتی‘‘ اپیلوں کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے حالیہ دنوں میں کچھ مثبت اشارے ملے ہیں تاہم امریکا کے بعض حلقے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وانگ یی نے واشنگٹن سے ’’مثبت اور عملی‘‘ پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کے لیے بہترین نتیجہ باہمی تعاون ہی ہو سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


