The news is by your side.

Advertisement

قوّتِ بیانیہ

اس میں شاید ہی کسی کو کلام ہوگا کہ ہماری قوّتِ بیان میں اب وہ رنگینی اور رنگ آمیزی نہیں رہی جو پہلے تھی، یا جو فارسی زبان کی خصوصیت ہوگئی ہے۔

کسی فارسی کتاب کو اٹھا کر دیکھ لیجیے زورِ بیان کا جلوہ اوّل سے آخر تک نظر آئے گا۔ جہاں جنگ کا تذکرہ آیا ہے وہاں صفحوں کے صفحے مردانہ اشعار سے مزین ہیں۔ اگر حسن و عشق کا ذکر چھڑ گیا تو اس پر زورِ انشا صرف کیا گیا ہے، اور صفت اور ثنا تو گویا ان پر ختم تھی۔

ایک باغیچہ کی تعریف میں وہ کتاب دل چسپی سے لبریز اور نادر جذبات سے معمور لکھ سکتے تھے۔ آج وہ زورِ بیان کہیں نظر نہیں آتا۔

خیر فارسی تورہی نہیں مگر فارسی کے جانشین اردو میں بھی وہ بات نہیں ملتی۔ ابتدا میں بے شک اس نے بھی وہی رنگ اختیار کیا تھا مگر چوں کہ ابتدائی مشق تھی، اس لیے بہت اچھی نہیں تھی۔ اگر مشق جاری رہتی تو شاید وہی خوبیاں پختہ ہوجاتیں مگر مشق جاری کیوں کر رہتی۔

زمانہ نے رنگ بدلا اور زمانہ کے ساتھ ساتھ زبان نے بھی اپنا رنگ بدل ڈالا۔ اب ہم سلاست اور اختصار کے دلدادہ ہیں۔ ہماری کتابیں خواہ وہ تبدیلیوں کے لیے لکھی جائیں خواہ مہینتوں کے لیے، سلیس ہونی چاہییں اور اس میں رنگ آمیزی کی ضرورت نہیں۔ اوّل تو رنگ آمیزی کے مسالے ہی نہیں باقی رہے اور اگر مانگے تانگے کے خیالات سے تھوڑی بہت رنگینی پیدا بھی کی جا سکتی تھی وہ ان قیود کی وجہ سے رک گئی۔

آج ناول، تاریخ اور تذکرے اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں مگران کے واقعات کی تحقیق اور سلاستِ زبان کی چاہے جتنی تعریف کیجیے، انشا پردازی کے لحاظ سے وہ سب کے سب قریباً صفر کے برابر ہیں۔ چناں چہ ہماری زبان کا روزمرّہ تو صاف ہوتا جاتا ہے اور اس کے علمی پہلو کی بھی، تھوڑی بہت ترقی ہو رہی ہے مگر ادبی پہلو روز بروز زوال پذیر ہے۔

اس قوّتِ بیان کے زوال کا سب سے بڑا اور مہلک سبب ہمارا افلاس ہے۔ پرانے زمانہ کے مصنفین شاہی درباروں میں امیرانہ شان و شکوہ کے جلوے دیکھتے تھے۔ بلکہ اکثر اوقات بادشاہوں اور امیروں کے دربار میں بالانشینی کا رتبہ رکھتے تھے۔ شیشہ و آلاتِ نادرہ، ہیرے جواہرات، ظروف بیش بہا جلوسِ شاہانہ، فوجوں کا طمطراق اور تزک و احتشام اور خدا جانے کتنی ہی اور باتیں جوان کی نظروں کے سامنے روزمرّہ گزرا کرتی تھیں، ان کا آج ہم خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔

آج کے مصنّفین میں ایسے بہت کم ہوں گے جنہوں نے ہیرے جواہرات کی صورت دیکھی ہو۔ خدا جانے مفرق اماریاں کیسی ہوتی تھیں۔ ظروفِ بیش بہا کاہے کو کسی نے دیکھے ہوں گے اور فوجی شوکت اور دلیرانہ جانبازیاں تو گویا ہمارے لیے افسانے ہوگئے۔ یہی سب قوّتِ بیانہ کو اٹھانے والے اسباب تھے۔

جب مصنّف کو نت نئے جلوے نظر آتے تھے تو زبان میں خود بخود روانی پیدا ہوتی تھی، اور خیالات نکل آتے تھے۔ اب تو یہ حال ہے کہ ہم تاریخوں یا قصّہ کہانیوں میں بادشاہ کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ یا اگر ذکر کیا تو بس اتنا کہ وہ ایسا مال دار تھا اور اتنی فوج رکھتا تھا، بس اس سے آگے قدم رکھنے کو ہم ہمّت ہی نہیں رکھتے۔ شاید کسی اردو ناول میں آج تک کسی مصنّف نے شاہی دربار کا نقشہ نہیں کھینچا اور نہ کسی بادشاہ یا ملکہ کو ہیروئن بنایا۔ جب ہم یہ جانتے ہی نہیں کہ بادشاہوں کے لہے عیش و عشرت اور کروفر کے کیا کیا لوازمات ہیں، تب تک ہم اسے ہیرو کیوں کر بنا سکتے ہیں۔ یا اگر کسی نے ایسا کیا تواس کے بادشاہ ہیرو اور سوداگر ہیرو میں کوئی نمایاں فرق نہ نظر آئے گا۔ اسی لیے ہمارے ناولوں کی ہیروئن اور ہیرو سیدھے سادے معمولی اوقات کے لوگ ہوتے ہیں تاکہ ان کی زندگی کا مرقع کھینچنے میں ہمیں ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔

اردو ہی میں پہلے فنِ موسیقی، فنِ شکار بازی، فنِ شہسواری وغیرہ کی صدہا اصطلاحیں ہر خاص و عام کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں۔ اب ان فنون کے زوال کے ساتھ ساتھ وہ اصلاحیں بھی فراموش ہوتی جاتی ہیں۔ کچھ دنوں میں ہم بغیر کتابی زبان کے اور کسی زبان سے اس کو نہ سن سکیں گے۔ قومی افلاس کا اثر جس قدر زبان پر پڑتا ہے اتنا شاید اور کسی چیز پر نہیں پڑ سکتا۔

دوسرا اس زوال کا جسے ہم شاید افلاس ہی سے منسوب کر سکیں، ہماری بدشوقی ہے۔ ہم میں اب بھی بفضلِ خدا ایسے بہت سے لوگ ہیں جو فراغت سے زندگی بسر کرتے ہیں اور جنہیں سیر و تفریح کے بہت سے مواقع میسر ہیں، مگر ہم کچھ ایسے آرام طلب اور اپاہج ہوگئے ہیں، ہم میں زندہ دلی اس قدر مفقود ہوگئی ہے اور ہمارے دلوں پر کچھ ایسی اوس پڑ گئی ہے کہ کسی کام سے جس میں غور و خوص اور ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے، ہم جی چراتے رہتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے تاج محل اور فتح پور سیکری کی عمارتیں دیکھی ہوں گی لیکن اگر ان سے ان عمارتوں کے ایک ایک جزو کا نام پوچھا جائے تو وہ شاید بمشکل بتلا سکیں۔

فنِ مہاری کے متعلق بے شمار اصطلاحیں تھیں، اب ایک بھی سننے میں نہیں آتی۔ ہندوستان میں انواع و خوش رنگ طیور نظر آتے ہیں، افلاس نے ہماری آنکھیں تو بند نہیں کر دیں، مگر ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو ایک درجن سے زائد قسموں کے نام بتلا سکیں۔ ہم میں پچھتّر بلکہ نوے فیصدی لوگ ایسے ہوں گے جو قمری کو نہیں پہچان سکتے۔ بس، طوطا، مینا کوّا، چیل یہی دس پانچ نام ہم کو یاد ہیں، زیادہ نہیں۔ باغیچے اب بھی اکثر بڑے شہروں میں موجود ہیں۔ ان میں رنگین مزاج لوگ تفنن طبع کے لیے جاتے ہیں، مگر ہم میں سے کتنے آدمی ایسے ہیں جو ایک درجن سے زائد پھولوں کا نام بتا سکیں؟ ان کے خواص وغیرہ کا تو ذکر ہی فضول ہے۔

ہمارے ملک کے پھولوں کے پودوں پر آج باغیچوں میں انگریزی نام کے ٹکٹ چسپاں کیے جاتے ہیں اور ہمیں ان کے انگریزی نام تو معلوم ہیں مگر اردو یا ہندی نہیں۔ جب ہماری طبیعتیں ایسی مردہ و افسردہ ہوگئی ہیں تو بیان کو کیسے فروغ ہو؟ اور وہ رنگ آمیزی کرنے کے لیے کہاں سے مسالے لائے؟ جب آپ صحیفۂ فطرت کا مطالعہ نہ کریں گے، جب آپ قدرت کی خوبیاں ہی نہ دیکھیں گے، جب آپ آنکھیں بند کیے روٹی کے دھندوں میں لگے رہیں گے تو آپ کہاں سے اشارے و تشبیہات و استعارے لائیں گے، کیوں کر قلم کی جودت دکھلائیں گے؟ اور کیوں کر انشا پردازی اور زورِ بیان کے کمال تک پہنچ سکیں گے؟ اور اب تو ہم سے پرانے لقمے بھی نہیں چبائے جاتے، نہ ہم انہی ہضم ہی کر سکتے ہیں اور نہ ان میں ہم کو مزہ ہی آتا ہے۔

افلاس اور مردہ دلی دو بلائیں تو تھیں ہی، اس پر مزید یہ کہ سستی شہرت پیدا کرنے کی ہوس ہر شخص کو ہے۔ جس نے دو چار کتابیں اردو کی پڑھ لیں وہ لکھار اور نثّار بن بیٹھا۔ پہلا مضمون قلم سے نکلا اور اس کے چھپوانے کی کوشش ہونے لگی۔ کچھ نہیں تو ہزار دو ہزار صفحے رنگ لیے جائیں۔ قبل اس کے کہ کسی مضمون یا تصنیف کو شائع کرانے کا خیال پیدا ہو۔

چوں کہ ہمارے مضامین کسی باقاعدہ مطالعہ یا ریاضت کا نتیجہ نہیں ہوتے، اس لیے ہم کسی ایک شق ادب پر قائم بھی نہیں رہ سکتے۔ جو کچھ خیال میں آیا الٹا سیدھا لکھ دیا۔ آج کوئی قصہ لکھ دیا، کل کسی قرب و جوار کے شہر کا تذکرہ، پرسوں ایک تاریخی واقعہ کا ترجمہ اور بعد ازاں کسی طرف جھک گئے۔

اس میں شک نہیں ہر رنگ میں چمکنے کی کوشش کرنا بہت قابلِ تعریف بات ہے اور ایک ہی رنگ میں محدود ہو جانے سے ہمارا قلم من مانے طرارے سے نہیں بھر سکتا۔ مگر ایسے دماغ جو ہر رنگ میں چمک سکیں، ایسی طبیعتیں جو نظم و نثر کے ہر رنگ پر قادر ہوں، ایسا زمین جو ہمہ گیر ہو، شاذ کسی کو ملتا ہے۔ اگر ہم ایک صیغۂ ادب کو لے لیں اور پڑھنے کے لیے جو چاہیں پڑھیں، مگر لکھیں اسی صیغہ کے متعلق جو ہماری زبان کو بہت فائدہ پہنچے۔

اگر ہمارا رجحان تاریخ نگاری کی جانب ہے تو ہم اس شقِ ادب کو اپنا حصّہ بنالیں۔ کوئی فلسفہ کی طرف مخاطب ہو اور اسی شق ادب میں چمکنے کی کوشش کرے، کچھ لوگ زراعت و فلاحت پر مضامین لکھیں۔ غرض اپنے قلم کو کسی ایک میدان میں دوڑائیں تب ہم ایک صنف کے کل الفاظ اور اصطلاحوں پر حاوی ہو جائیں گے اور قوّتِ بیانیہ کے نشوونما میں اس سے بہت زیادہ مدد ملے گی۔

علاوہ برایں جوں جوں پرچے اور رسالے پڑھتے جارہے ہیں، ہم میں زود نویسی کی عادت پڑتی جاتی ہے۔ پرانے زمانے کے لوگ جو کچھ لکھتے تھے اسے پہلے دس پانچ بار خود کانٹ چھانٹ کر اپنے دوستوں کو دکھاتے تھے۔ اب آج کل تیز نگاری کا دور ہے، ایک بار لکھ کر اسے دہرانا مذموم سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اصل مسودہ کو دوبارہ صاف کرنے کی محنت بھی نہیں برداشت کی جا سکتی۔ ایسی حالت میں زورِ بیان یا کمالاتِ انشا پردازی کا دکھانا غیرممکن ہی نہیں امید از قیاس ہے، اور اس تیز نگاری کی شکایت کچھ اسی ملک میں نہیں ہے۔ انگلستان وغیرہ ممالک میں بھی لٹریچر کے ادبی پہلو کے زوال کی شکایت سننے میں آتی ہے جو رنگینی اور لطفِ زبان اور زورِ بیان الزبتھ کے عہد کے مصنّفین میں شامل ہے، وہ گزشتہ یا موجودہ صدی کے مصنّفین میں نہیں ملتا، مگر ہاں اس کمی کے ساتھ ساتھ سائنس، صنعت و حرفت اور فلسفہ میں انہوں نے اس مدت میں جو ترقیاں کی ہیں وہ اس کمی کی تلافیاں کر دیتی ہے۔ ہمارے ہاں تو ان اصناف کا کہیں ذکر نہیں، جو کچھ بساط ہے وہ ادبی مضامین اور کتابوں تک محدود، اور ان کا بھی یہ حال۔

نثر ہو یا نظم، زورِ بیاں اس کی جان ہے۔ جب یہی نہ ہوا تو وہ نظم یا نثر روکھی پھیکی ہوتی ہے۔ اس زوال کے لیے ہمارے طرزِ تمدّن کا انقلاب بھی ایک حد تک جواب دہ ہے۔ اب نہ پرانے مراسم آداب رہے، نہ وہ عیش وعشرت کے سامان، نہ امرا اور رؤسا میں وہ شوق۔ بجائے چوگان بازی کے اب کرکٹ اور پولو کا زور شور ہے، بجائے رنگین جلسوں کے اب گارڈن پارٹیاں ہیں۔ معاشرت میں جو ایک دل پذیر تکلّف تھا، اس کی جگہ اب تکلیف دہ تصنّع ہے۔ ان باتوں کی تفصیل کے لیے نہ ہماری زبان میں الفاظ ہیں اور نہ اصطلاحیں، اگر ہم کسی رئیس کے کمرہ کی آرائش کا بیان کرنا چاہیں تو ہمارے امکان سے باہر ہے اور اس کا تین چوتھائی سامان بالکل انگریزی ہے جس کے لیے ہماری لغت ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ زورِ بیان دکھانے میں کس قدر تکلّف پیدا ہو جاتا ہے، مگر اسے قابلِ معافی سمجھنا چاہیے کیوں کہ فنِ ادب کے لیے تکلّف (مگر تصنع نہیں) کی چاشنی ایک ضروری شے ہے۔

(اردو اور ہندی زبانوں کے نام وَر ناول اور افسانہ نگار، فلمی کہانی نویس منشی پریم چند کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں