The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ سندھ نے ایک ماہ میں پولیس رولزاورایکٹ بنانے کی یقین دہانی کرا دی

کراچی: سندھ پولیس میں عدالتی فیصلے کے مطابق اصلاحات نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت میں قابل لوگ ہیں توایکٹ کے ساتھ رولزکیوں نہیں بنا دیتے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں عدالتی فیصلے کے مطابق اصلاحات نہ کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک ماہ میں پولیس رولزاورایکٹ بنانے کی یقین دہانی کرا دی، اے جی سندھ نے وزیراعلیٰ کی یقین دہانی سے متعلق عدالت کوآگاہ کردیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی پریقین نہیں کیونکہ ان کی بد نیتی واضح ہوچکی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت میں قابل لوگ ہیں توایکٹ کے ساتھ رولزکیوں نہیں بنا دیتے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پولیس رولزکا معاملہ اسمبلی چلا گیا تو وہی ہوگا جو پہلے ہوتا آیا ہے، سندھ ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی آئی جی سندھ بھی نہیں کرسکتے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 9 جنوری اور22 مارچ کو کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔
اے جی سندھ نے کہا کہ نیا پولیس ایکٹ بنانے کی کمیٹی میں آئی جی سندھ بھی شامل ہیں۔

درخواست گزارکے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کمیٹی نےعدالتی فیصلے کے مطابق قانون سازی سے انکارکردیا، کابینہ کمیٹی میں امتیازشیخ، شبیربجارانی، عبدالکبیرقاضی شامل ہیں۔

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیا سندھ حکومت کے 2 وزرا سندھ ہائی کورٹ کوبتائیں گے کیا کرنا ہے؟ اے جی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت بند کمرے میں پولیس معاملے پرقانون سازی نہیں کررہی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کی گئی تھی، سپریم کورٹ نے فیصلے میں حکومت سندھ کوکوئی ہدایت جاری نہیں کی۔

عدالت نے سندھ حکومت کو14مئی کو قانون بنا کررپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں