تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں بھی انتخابات کیلیے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر

پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی عام انتخابات...

’عدالتی اصلاحات بل پر کیا فیصلہ کروں گا یہ کہنا قبل ازوقت ہے‘

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عدالتی...

قومی اسمبلی میں‌ عدالتی اصلاحات کا بل منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات پر مشتمل...

مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہائوس میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح کر دیا

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہائوس میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح کر دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بچوں کو پولیو کے ڈرپس پلائے اور تحائف دیئے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا  پیچوہو، قاسم سومرو ، کمشنر کراچی اقبال میمن، سیکریٹری صحت ذوالفقار شاہ، ای او سی کوآرڈیننیٹر فیاض عباسی ، عزیز میمن اور دیگر موجود رہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ انسداد پولیو مہم 13 تا 19 مارچ تک جاری رہے گی، صوبے کے 16 ہائی رسک اضلاع میں 5.6 ملین 5 سال تک عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

 ان کا کہنا ہے کہ کراچی ڈویژن کے تمام 7 اضلاع، لاڑکانہ ڈویژن تمام 5 اضلاع، سکھر ڈویژن کے سکھر اور گھوٹکی، حیدرآباد ڈویژن کے حیدرآباد مکمل اور جامشورو جزوی شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس حوالے سے کہا کہ کراچی میں 40 ہزار سے زائد پولیو ورکرز اور 2270 کے قریب سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دنیا کے دو پولیو کے شکار ممالک میں سے ایک ہے، پاکستان میں اپریل 2022 سے ابتک پولیو کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان تمام کیسز کا تعلق جنوبی خیبر پختون خواہ سے ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے مثبت ماحولیاتی نمونے بھی رپورٹ ہوئے ہیں، یہ سندھ کی بڑی کامیابی ہے کہ گزشتہ 33 ماہ سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، سندھ میں پولیو کا آخری کیس 14 جولائی 2020 کو جیکب آباد سے رپورٹ ہوا تھا۔

مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ لانڈھی ضلع ملیر سے اگست 2022 میں ماحولیاتی نمونے منفی رپورٹ ہوئے لیکن اگر پولیو مہم اسی رفتار کے ساتھ جاری رکھیں تو ہمیں مزید اہم نتائج نظر آئیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن ہمیں مطمئن نہیں ہونا چاہیے اور محنت جاری رکھنی چاہیے، ویکسی نیشن کے ذریعے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر اسٹیک ہولڈر کی مدد چاہتے ہیں، بھر پور مہم کے نتیجے میں انکار اور چھوٹ جانے والے بچوں میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے،کراچی میں ہمیں کیسز کی شرح کو مزید نیچے لانا ہوگا۔

تمام طبی ماہرین اور مذہبی اسکالرز اورل پولیو ویکسین کو سب سے محفوظ اور موثر قرار ادا کیا ہے، پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، ہر مہم کے دوران بچوں کو دو قطروں  پلانے سے روکا جا سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں، پولیو کا خاتمہ کرکے پاکستان کے مستقبل کو بچانے میں مدد کریں۔

Comments