سید مراد علی شاہ 88 ووٹ لیکر وزیراعلیٰ سندھ منتخب -
The news is by your side.

Advertisement

سید مراد علی شاہ 88 ووٹ لیکر وزیراعلیٰ سندھ منتخب

کراچی: پیپلزپارٹی کے مراد علی شاہ اٹھاسی ووٹ لیکر سندھ کے ستائیسویں وزیراعلی سندھ منتخب کرلئے گئے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدرات وزیر اعلی سندھ کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کا عمل ہوا ،پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ اور تحریک انصاف کے خرم شیر زمان مدمقابل تھے۔

پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ کو 88 اور تحریک انصاف کے خرم شیر زمان کو صرف 3 ووٹ ملے، ووٹنگ کے عمل میں پیپلز پارٹی کے 86، ایم کیو ایم کے 36، مسلم لیگ ن کے 6 ارکان نے شرکت کی جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں آیا۔

ایم کیو ایم نے وزیر اعلی سندھ کے انتخاب میں کسی امیدوار کی حمایت یا مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ وزیر اعلی سندھ کیلئے کوئی امیدوار بھی سامنے نہیں لایا گیا۔

صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے مراد علی شاہ کو دلی مبارکباد دی، پھر بزرگ سائیں قائم علی شاہ کو خراج تحسین پیش کیا،ارکان سندھ اسمبلی نے کھڑے ہوکر قائم علی شاہ کے لئے تالیاں بجائیں۔

قائم علی شاہ کے سیاسی سفر پر ایک نظر

واضح رہے دبئی میں پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیرمین آصف زرداری کی زیرصدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کو ہٹانے سمیت سندھ کابینہ میں بھی ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا تھا، قائم علی شاہ کو سندھ کا سب سے زیادہ عرصے تک وزیراعلیٰ رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔

مراد علی شاہ کون ہیں ؟

مراد علی شاہ سندھ کی تاریخ کے پہلے وزیر اعلی ہیں جن کے والد سید عبداللہ شاہ بھی اسی منصب پر فائز رہے ۔

کراچی میں پیدا ہونے والے چون سالہ سائیں سید مراد علی شاہ کا تعلق جامشورہ سے ہیں، اوران کو سیاست وراثت میں ملی، ان کے والد سید عبد اللہ شاہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ رہے ۔

مراد علی شاہ نے این ای ڈی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کلیفورنیا سے بھی اکنامک سسٹم اور سول اسٹریکچر انجینئرنگ کی ڈگریاں حاصل کیں۔

مراد علی شاہ نے دو ہزار دو میں سیاست میں قدم رکھا اور رکن اسمبلی سندھ بنے، دو ہزار آٹھ میں بھی جامشورو سے منتخب ہوئے، دوہزار تیرہ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ان کی دوہری شہریت آڑے آگئی، جس کو خیر باد کہتے ہوئے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا اورسندھ کابینہ میں وزیر خزانہ بن گئے، ان کا حلقہ پی ایس تہترجامشورو اور دادو کے مختلف گاوں پر محیط ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں