The news is by your side.

Advertisement

بجلی بحران پر وزیر اعلیٰ سندھ کی بے بسی، وزیر اعظم کو تیسرا خط لکھ دیا

کراچی: سندھ میں بجلی کے شدید ترین بحران اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب کو ختم کرنے کے سلسلے میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو تیسرا خط لکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بجلی کے بحران پر وزیر اعظم پاکستان کو دو خطوط پہلے بھی لکھے ہیں جن پر کوئی عمل در آمد نہیں ہوا۔ انھوں نے تیسرے خط میں ایک بار پھر کراچی میں بدترین لوڈ شیڈنگ کی طرف توجہ دلائی۔

وزیر اعلیٰ نے خط میں لکھا ہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی باہمی لڑائی سے کراچی شہر متاثر ہورہا ہے، اس لڑائی سے پیدا ہونے والے لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو ختم کرنے کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہے۔ خیال رہے آج پی ایس پی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے اس کی ذمہ داری حکومت سندھ پر ہے۔

انھوں نے خط میں یاد دلایا کہ گیس کمپنی کے ستّر فیصد اور کے الیکٹرک کے پچیس فیصد شئیرز وفاق کے پاس ہیں، اسی طرح نیپرا اور اوگرا بھی وفاق کے ماتحت ادارے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وفاق نے کچھ نہ کیا توسی سی آئی، این ایف سی اجلاس میں یہ معاملہ اٹھاؤں گا۔

مراد علی شاہ نے خط میں مذکور کیا ہے کہ لوڈشیڈنگ صرف کراچی ہی میں نہیں بلکہ پورے سندھ میں ہورہی ہے، سندھ حکومت کی کوششوں سے کراچی کا امن بحال ہوا ہے، یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو امن و امان خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

مصطفیٰ کمال کا اگلے ہفتے لوڈ شیڈنگ کے خلاف بڑے احتجاج کا اعلان

انھوں نے لکھا کہ سندھ کے لوگ بھی پاکستان کے شہری ہیں، آئین کے تحت سندھ کوبھی مساوی حقوق حاصل ہیں، حیسکو اور سیپکو کی خراب کارکردگی سے 16 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، یہاں لوڈشیڈنگ کےمسئلے کو ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پرحل کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کراچی میں گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہیں کے الیکٹرک کی طرف سے لوڈ شیڈنگ کا جو عذاب نازل ہوا ہے، اس سے شہری بلبلا اٹھے ہیں اور شہر میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی نے متحرک کردار ادا کیا اور آج پی ایس پی اور  ایم کیو ایم پاکستان نے بھی گیس کمپنی کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں