The news is by your side.

Advertisement

مراد سعید کی میڈیا ٹاک کے دوران اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی پارلیمنٹ سے باہر میڈیا ٹاک کے دوران مسلم لیگ ن کے ارکان نے ہنگامہ آرائی کی کوشش کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ان میں شرم و حیا نہیں ہے، بلاول بھٹو پارٹی کا حادثاتی چیئرمین ہے۔ خورشید شاہ، احسن اقبال سب نے چوری کی ہے۔ ان لوگوں نے سندھ کو اور ملک کو لوٹا ہے۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ یہ مودی کے یار ہیں، سجن جندال کو اپنے گھر کس نے بلایا۔ انہوں نے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا، حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ پارلیمان کے اندر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے، ہم میڈیا کو اپنا مقدمہ بتانے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ والدہ کے قتل پر غیرت دکھانی چاہیئے تھی، منی لانڈرنگ کیس میں غیرت دکھانی چاہیئے تھی۔ کراچی میں صفائی ہو رہی تھی تو آپ کی غیرت کہاں گئی۔ سندھ میں سب سے زیادہ غربت ہے اس پر آپ کی غیرت کہاں گئی؟ آپ میں بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے، آپ کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی۔

مراد سعید نے کہا کہ ان کو پاکستان بنانے کے لیے قربانیوں کا احساس نہیں ہوگا، احساس ان کو ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے ہجرت کی بچے قربان کیے۔ ایوان میں تقریر کرو تو اس کا جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھو۔

مراد سعید کی میڈیا ٹاک کے دوران مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب اور دیگر ارکان وہاں پہنچ گئے اور شور شرابہ شروع کردیا۔ لیگی ارکان نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

بعد ازاں اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ بلاول نے اسمبلی میں غیرت کا لیکچر دے کر راہ فرار اختیار کیا، بلاول کے لیکچر کے جواب میں ہم بھی مؤقف دینا چاہتے تھے۔ پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کے لیے جمع ہوئے تو اپوزیشن والوں نے حملہ کردیا۔ دھکم پیل اور گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ میڈیا نمائندوں سے مائیک چھین لیے گئے۔

مراد سعید نے کہا کہ ان لوگوں کو صرف قبضہ کرنا اور رعب جمانا سکھایا گیا ہے، نواز شریف جیل میں ہیں اور مریم کو بھی منی لانڈرنگ پر گرفتار کیا گیا۔ بلاول کی غیرت اس وقت کہاں تھی جب پاکستان کو لوٹا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا کشمیر سے متعلق گفتگو ہوئی، پارلیمنٹ کے اجلاس میں انہیں پروڈکشن آرڈر کی فکر تھی کشمیر کی نہیں۔ یہ لوگ صرف این آر او مانگ رہے ہیں اور ان کا کوئی مطالبہ نہیں۔ اسمبلی میں صبر و تحمل سے بلاول بھٹو کی گفتگو سنی۔ بلاول بھٹو نے اسمبلی میں گالی دی جواب میں، میں بھی دے سکتا تھا لیکن نہیں دیا۔ جب میری جواب دینے کی بات آئی تو بلاول بھٹو اسمبلی سے بھاگ گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں