The news is by your side.

ارشد شریف کو کون دھمکاتا اور ہراساں کرتا تھا؟

اسلام آباد : فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے نوٹس پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما مراد سعید کا جواب سامنے‌آگیا ، جس میں انھوں نے 10سوالوں کے جواب بھی مانگ لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید نے ایف آئی اے کو طلبی کے نوٹس پر جواب بھیج دیا ، مراد سعید نے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے 10سوالوں کے جواب بھی مانگے ہیں۔

مراد سعید نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اپنی ساکھ اور حیثیت کےاعتبار سے وفاقی حکومت کاحصہ ہے، ایف آئی اے ،آئی بی حکام وفاقی حکومت کےماتحت اور وزیر داخلہ کوجوابدہ ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی زندگی کو خطرہ تھا ،تحفظ کے بجائےوفاق مخاصمانہ اقدام کرتی رہی، موجودہ حکومت کے آتے ہی ارشد شریف کیخلاف کارروائیاں شروع کردی گئی تھیں۔

رانا ثنا اللہ نے ارشد شریف کے قتل پر متعدد بارانتہائی غیرذمہ دارانہ بیانات دیئے، وزیرداخلہ نےقتل کو کینیا میں سونے کی اسمگلنگ سے جوڑنےکی کوشش بھی کی۔

حکومتی رویے کے تناظر میں ایف آئی اے سے غیر جانبدارانکوائری کی توقع نہیں ، ارشد شریف کی والدہ سپریم کورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی درخواست کر چکی ہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی ارشد شریف کی والدہ کے خط پر کارروائی کرےگی۔

ارشدشریف کی والدہ نے 16 نومبر کو سپریم کورٹ انسانی حقوق سیل کو بھی خط لکھا، سپریم کورٹ انسانی حقوق سیل کو بتایا گیا ارشد شریف کیس کی تحقیقات کا علم نہیں۔

ارشد شریف کے سرکاری پوسٹ مارٹم پر بھی وفاقی حکومت کا کردار متنازع ہے، پمز سے پوسٹ مارٹم کیلئے ارشد شریف کی والدہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ جانا پڑا۔

کمیٹی تحقیق کرے شہید ارشد شریف پر 16 سے زائد مقدمات کے مدعیان کون تھے اور شہیدارشد شریف کی تحقیقاتی صحافت کس کیلئے خطرہ تھی۔

معلوم کیا جائے پاکستان میں کون شہیدارشد شریف کو دھمکاتا اورہراساں کرتا تھا اور تحقیق کی جائے یو اے ای کے ہوٹل میں کس کی ایما پر شہید کو یو اے ای چھوڑنے کا کہا گیا۔

ارشد شریف کی شہادت کو کس نے میڈیا پر ایکسیڈنٹ کا رنگ دینے کی کوشش کی؟ شہادت سےقبل وہ کس کیخلاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب کررہے تھے؟ تحقیق کی جائیں حکومتی عہدیداران نےعجلت میں الزامات پر مبنی پریس کانفرنسزکیوں کیں؟

Comments

یہ بھی پڑھیں