پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر قتل کا مقدمہ سامنے آگیا
The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر قتل کا مقدمہ سامنے آگیا

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف قتل کا مقدمہ سامنے آگیا،  عثمان بزدار  قتل کیس میں دیت دے کرچھوٹ گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر قتل کا مقدمہ سامنے آگیا، قتل کا مقدمہ 1998 میں درج ہوا تھا، ایف آئی آرمیں عثمان بزدار، والد، بھائی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

سردارعثمان بزدار قتل کیس میں دیت دے کرچھوٹ گئے تھے، ڈیرہ غازی خان کی عدالت نے جنوری 2000 میں فیصلہ سنایا تھا۔

بطور تحصیل ناظم عثمان بزدار پر گھوسٹ ملازمین کی بھرتی کابھی الزام ہے جبکہ گھوسٹ ملازمین کی بھرتیوں کے کیس کی انکوائریاں جاری ہیں۔

عثمان بزدار نے سال 2013 کا الیکشن مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر لڑا تھا۔

مزید پڑھیں :  پی ٹی آئی کےنامزدوزیراعلیٰ پنجاب اڑھائی کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک

اس سے قبل  پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےاثاثوں کی تفصیلات جمع کرائیں تھی ، جس کے مطابق عثمان بزدار اڑھائی کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

پنجاب کی وزارت اعلٰی کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوار سردار عثمان بزدار  نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر کہا تھا کہ ،ذمہ داری سونپنے پر عمران خان کا مشکور ہوں، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کیلئے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے سردارعثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا تھا ، سردارعثمان بزدارکا تعلق پسماندہ علاقے تونسہ شریف سے ہے۔

عثمان بزدارپی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پی پی 286 تونسہ شریف سے منتخب ہوئے تھے۔

نامزد وزیراعلیٰ پنجاب اپنے قبیلے کے سردارہیں جبکہ انھوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کررکھا ہے، سردارعثمان بزدارجنوبی پنجاب محاذکےسرگرم رکن ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں