The news is by your side.

Advertisement

امریکی دوشیزہ کا قتل، اعتراف جرم کرنیوالے 500افراد مگر قاتل آزاد، ماجرا کیا ہے؟

امریکا میں 74 برس قبل قتل ہونے والی دوشیزہ کے قتل کی ذمہ داری 500 افراد نے قبول کی، حیران کن طور پر اعتراف جرم کرنے والے بہت سے افراد قتل کے کئی سال بعد پیدا ہوئے۔

یہ واقعہ ہے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کا جہاں بالی وڈ میں اداکاری کے جوہر دکھانے کی خواہش مند دوشیزہ کو بے رحمانہ طریقے سے دو ٹکڑے کرکے قتل کیا گیا لیکن 74 برس گزرنے کے باوجود پولیس قاتل کا سراغ لگانے سے قاصر ہے۔

رپورٹ کے مطابق 29 جولائی 1924 کو امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں الزبتھ شارٹ نامی خوبصورت لڑکی پیدا ہوئی جو 16 برس کی عمر میں ہالی وڈ میں اداکاری کی خواہش دل میں لیے لاس انجیلس چلی گئی تاہم ہالی وڈ میں کام ملنے کی آس میں اس نے ویٹرس نوکری شروع کردی۔

الزبتھ کے دل میں ہالی وڈ سے کال آنے کی خواہش ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ 9 جنوری کو اچانک الزبتھ شارٹ کہیں غائب ہوگئی اور پانچ روز پولیس کا ساؤتھ نورٹن ایونیو کے لیمرٹ پارک کے قریب سے مسخ شدہ لاش ملی۔

یہ لاش 16 سالہ الزبتھ شارٹ کی تھی جس کا چہرہ منہ سے کان تک پھاڑ دیا گیا تھا اور اس کے جسم کو کمر سے نیچے تک دو حصے کیے گئے تھے۔

الزبتھ کے قتل کے آغاز میں 60 افراد نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے یہ بے رحمانہ قتل کیا ہے تاہم پولیس نے ان سب کو رہا کردیا کیوں کہ ان کا جرم ثابت نہیں ہوسکا۔

رپورٹ کے مطابق اس کیس میں اب تک 500 سے زائد افراد قتل کا الزام اپنے سر لے چکے ہیں جن میں سے کسی کو سزا نہیں دی گئی کیوں کہ کسی کا جرم ثابت نہیں ہوا اور حیران کن طور پر اعتراف جرم کرنے والے بہت سے افراد وہ تھے جو الزبتھ شارٹ کے قتل کی واردات کے بعد پیدا ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں