site
stats
حیرت انگیز

سرعام پھانسی پر لٹکائی جانے والی قاتل ہتھنی

کیا آپ جانتے ہیں انسان اپنے خود ساختہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک ہتھنی کو بھی سرعام پھانسی پر بھی لٹکا چکا ہے؟ اس ہتھنی کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے تشدد کرنے پر اپنے نگران کو مار ڈالا تھا۔

یہ سنہ 1916 کی بات ہے۔ امریکی ریاست ٹینسی میں اسپارکس ورلڈ نامی سرکس بے حد مشہور تھا اور دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔

ستمبر کے ماہ میں اس سرکس کے لیے ایک ہتھنی میری کو لایا گیا تاکہ وہ اپنے حیرت انگیز کرتبوں سے شائقین کو محفوظ کرسکے۔ ہتھنی کی دیکھ بھال کے لیے ریڈ ایلڈرج نامی ایک شخص کو رکھا گیا۔

یہ شخص ایک ہوٹل ورکر تھا اور اسے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ریڈ کی ذمہ داری تھی کہ وہ میری کو قریب واقع تالاب پر لے جا کر پانی پلائے اور اسے گھمائے پھرائے۔

مزید پڑھیں: ہاتھیوں کا جوڑا بچے کو بچانے کے لیے جان پر کھیل گیا

ایک دن تالاب جاتے ہوئے راستے میں میری کو خربوزے کا ایک ٹکڑا نظر آیا جسے کھانے کے لیے وہ نیچے بیٹھ گئی۔ یہ دیکھ کر ریڈ سے صبر نہ ہوا اور ہتھنی کو جلدی اٹھانے کے لیے اس نے ایک چھڑی میری کے کان کے پیچھے دے ماری۔

نگران کی اس حرکت سے ہتھنی نہایت اشتعال میں آگئی۔ اس نے ریڈ کو اپنی سونڈ میں جکڑا اور اسے اٹھا کر سامنے درخت پر دے مارا۔ اس کے بعد اس نے اپنے بھاری بھرکم پاؤں سے نگران کا سر کچل دیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نگران کو اس کے انجام تک پہنچانے کے بعد میری بالکل پرسکون ہوگئی اور اس نے مزید کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، لیکن وہاں موجود افراد نے ایک طوفان اٹھا دیا اور زور زور سے چلانے لگے، ’ہاتھی کو مار ڈالو‘۔

وہاں موجود ایک سپاہی نے میری پر کئی گولیاں بھی چلائیں تاہم وہ گولیاں میری کو کوئی بڑا نقصان پہنچانے میں ناکام رہیں۔

مزید پڑھیں: یوگا کا شوقین ہاتھی

یہ واقعہ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ مقامی افراد نے مطالبہ شروع کردیا کہ ان کے گھروں کے قریب سے ایسے سرکس کو ہٹا دیا جائے جس میں ایک مست ہاتھی موجود ہے جو کسی بھی دن خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ افواہ بھی پھل گئی کہ میری اس سے قبل بھی اپنے کئی نگرانوں کو قتل کرچکی ہے جس سے مقامی آبادی مزید خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئی۔

جب سرکس کی ساکھ داؤ پر لگ گئی تو سرکس کے مالک چارلی اسپارکس نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ لوگوں کے خوف کو دبانے اور سرکس کو بچانے کے لیے اس نے اعلان کروا دیا کہ ’قاتل میری‘ کو سر عام پھانسی دی جائے گی۔

بالآخر دھند سے بھری ایک صبح ہتھنی میری کو قریبی قصبے ایرون لے جایا گیا جہاں اس کی پھانسی دیکھنے کے لیے ڈھائی ہزار لوگ جمع تھے۔

میری کے گلے کے گرد ایک مضبوط دھاتی زنجیر باندھی گئی اور اسے کرین کی مدد سے اسے اوپر اٹھایا جانے لگا۔ لیکن ابھی میری ذرا ہی اوپر اٹھی تھی کہ زنجیر ٹوٹ گئی اور میری زور دار دھماکے کے ساتھ نیچے گر پڑی۔ گرنے سے میری کے ایک پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

اس منظر کو دیکھ کر موقع پر موجود کئی افراد اور بچے خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے تاہم پھانسی کا عمل ابھی باقی تھا۔

بالآخر ایک اور مضبوط زنجیر لائی گئی اور اس کے ذریعے میری کو پھانسی دی گئی جو کامیاب رہی۔ میری آدھے گھنٹے تک زنجیر کے ذریعے کرین سے لٹکی رہی حتیٰ کہ اسے مردہ قرار دے دیا گیا اور وہاں موجود لوگوں نے سکھ کی سانس لی۔

مرنے کے بعد میری کو قریب واقع ریل کی پٹریوں کے قریب دفن کردیا گیا اور اسے ’قاتل میری‘ کی قبر کے نام سے پکارا جانے لگا۔

میری کی موت کو بیسویں صدی میں جانوروں پر سرکس کے لیے ہونے والے ظلم کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top