پیر, جون 8, 2026
اشتہار

مرشد آباد: قوم سے غداری اور انگریز سرکار سے بغاوت تک

اشتہار

حیرت انگیز

اورنگ زیب کی جارحانہ حکمتِ عملی مغلیہ سلطنت کے زوال کا سبب بنتی ہو یا نہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ اس کی موت نے ملک کے شیرازہ کو بکھیر کر رکھ دیا۔ امراء کی ریشہ دوانیاں شدت پکڑ گئیں جن سے بیرونی حملہ آوروں نے فائدہ اٹھایا اور دور دراز کے صوبہ داروں نے بھی اپنے صوبے میں نیم خود مختارانہ حیثیت اختیار کر لی۔

1707ء میں جب اورنگ زیب کا انتقال ہوا، مرشد قلی خان بنگال کا نائب ناظم اور دیوان تھا۔ لیکن فرخ سیر کے دور حکومت (1713ء) میں اس کی حیثیت خود مختار صوبیدار کی ہوگئی، اور اس نے اپنا مستقرِ حکومت مرشد آباد کو بنایا۔ اس کے دور میں امراء ناخوش اور اکثر قید خانے میں ڈال دیے گئے تھے لیکن 1727ء میں اس کے انتقال کے بعد اس کا داماد (مرشد قلی خان کا کوئی بیٹا نہیں تھا) شجاع الدین جانشیں ہوا تو لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ملک میں ہر طرف خوش حالی نظر آنے لگی۔ حکومت کے تمام نظم و نسق بڑے حسن خوبی سے انجام پانے لگے۔ اسی دوران (1733ء) میں بہار بھی اس کے زیرِ اثر آگیا۔ اس کی طبعیت کی فیاضی اور ہوشیاری نے نہ صرف اس کے قدم مضبوط کیے بلکہ بہت سارے دشمنوں کو دوست بنا لیا اور ایک عالم اس کا گرویدہ ہو گیا۔ اس کے دور میں دور دراز سے لوگ مرشد آباد آنے لگے اور عزت و اکرام سے نوازے گئے۔ مشہور مرثیہ گو مرزا ظہور علی خلیق اسی کے دور میں مرشد آباد آئے تھے۔

شجاع الدین دس برس تک وزرات کے فرائض انجام دینے کے بعد شملہ میں انتقال کر گیا تو اس کا بیٹا سرفراز جہاں وزیر کے عہدے پر مقرر ہوا۔ سرفراز جہاں کے اندر امورِ حکومت کی انجام دہی کی وہ صلاحیت نہیں تھی جو شجاع الدین میں تھی۔ وہ اپنا زیا دہ تر وقت مذہبی کاموں میں صرف کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال کے اندر ہی علی وردی خان، جو ایک ماہر اور لائق سپہ سالار تھا اور بہار کے نائب ناظم کے فرائض انجام دے رہا تھا اور جس کے سرفراز خان سے تعلقات خوشگوار نہیں تھا باغی ہو گیا اور سرفراز خان کو 10 اپریل 1740ء میں شکست دے کر بہار، بنگال اور اڑیسہ تینوں صوبوں کا نواب بن گیا۔ نواب بننے کے بعد اس نے اپنا لقب مہابت جنگ اختیار کیا۔ علی وردی خان کے اندر زبردست فوجی اور انتظامی صلاحیت تھی۔ وہ جس طرح میدانِ جنگ میں ایک ماہر فوجی کی طرح لڑتا تھا، اسی طرح انتظامِ سلطنت میں بھی اپنی ماہرانہ چابک دستی کا مظاہرہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے سال ہا سال تک تینوں صوبوں کو ایک لڑی میں مضبوطی سے پروئے رکھا۔ اگرچہ اس کی زندگی کا زیادہ تر حصّہ مرہٹوں سے جنگ کرنے اور اپنی حکومت کو بچائے رکھنے میں گزرا۔ لیکن اس کے دور نوابی میں انگریز اچھی طرح بنگال میں اپنا قدم جما چکے تھے۔ اور پورے صوبے میں اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کرلی تھی۔ پھر بھی اس نے اپنی زندگی میں حکومت کی شیرازہ بندی میں خلل پڑنے نہیں دیا۔

1756ء میں علی وردی خان کا انتقال ہوا تو اس کا نواسہ سراج الدّولہ اس کی جگہ تخت نشیں ہوا۔ سراج الدّولہ نوجوانی کے باعث حکومت کے کاموں کا تجربہ نہیں رکھتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ تنک مزاج بھی تھا۔ اس پر طرّہ یہ کہ اس کے رشتہ داروں خصوصا گھیسٹی بیگم نے جو اس کی خالہ تھی۔ اس کے خلاف سازش شروع کر دی۔ گھیسٹی بیگم اپنے بیٹے شوکت جنگ کو مسندِ شاہی پر دیکھنا چا ہتی تھی، لیکن اس کی تمنا پوری نہ ہو سکی۔ ادھر میر جعفر جو اس کا جرنل تھا، تحت کو ہوس ناک نظروں سے دیکھ رہا تھا، اور تخت کو حاصل کرنے کے لیے اس نے انگریزوں (لارڈ کلائیو اور واٹسن) اور ہندو امراء ( جگت سیٹھ اور اور امی چند وغیرہ) کی مدد حاصل کی۔ جس میں وہ کام یاب ہو گیا۔ اور جنگِ پلاسی میں 2 جولائی 1757ء کو میر جعفر کے بیٹے میرن نے سراج الدّولہ کو قتل کر دیا۔ انگریزوں نے میر جعفر کو اس کی غداری کے بدلہ میں سراج الدّولہ کا جانشین مقرر کر دیا۔ اس کی جانشینی سے بنگال میں انگریزی حکومت کی نیو اور مضبوط ہو گئی۔ میر جعفر لارڈ کلائیو کا احسان مند تھا، اس لیے اس کی تابع داری انتہا کو پہنچ گئی تھی، پھر بھی انگریز مطمئن نہیں ہوئے۔ اور ان کے مطالبات روز بروز بڑھتے گئے۔ یہاں تک کہ میر جعفر اوب گیا اور ان کے ہوس زر کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکا۔ دوسرے لفظوں میں وہ اب انگریزوں کے کام کا نہ رہ سکا تھا۔ اس لیے انگریزوں نے اسے معزول کر کے 1760ء میں اس کے داماد میر قاسم کو اس کا جانشیں مقرر کیا۔

میر قاسم انگریزوں کے چنگل سے نکلنا چاہتا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ انگریز اس سے من مانی کراتے رہیں۔ وہ بنگال، بہار اور اڑیسہ کا ایک خود مختار حکمراں بننا چاہتا تھا۔ اس لیے وہ دارالسلطنت کو مرشد آباد سے تبدیل کر کے مونگیر (بہار) لے گیا۔ لارڈ کلائیو نے تاڑ لیا کہ میر قاسم کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور وہ ان کے زیرِ اثر نہیں‌ رہنا چاہتا ہے۔ اس لیے فوج کشی کی۔ میر قاسم انگریزوں کی فوجی طاقت کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکا اور مجبوراً اودھ میں شجاع الدولہ کے پاس بھاگ گیا۔ ادھر لارڈ کلائیو نے میر جعفر کو کلکتہ لا کر ایک بار پھر مسند نشیں کیا۔ (10 جولائی 1763ء ) اور اس سے بھاری رقم وصول کی۔ میر جعفر کی مسند نشینی کا دور زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور وہ 1765ء میں اس دار فانی سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت جس عالم میں ہوئی وہ بھی کم عبرت ناک نہیں۔ ادھر میر قاسم نے شاہ عالم اور نواب اودھ کے ساتھ مل کر ایک متحدہ محاذ انگریزوں سے مقابل ہونے کے لیے قائم کیا۔ اور بکسر کے مقام پر انگریزوں سے نبرد آزما بھی ہوا لیکن انگریز فوج کی صلاحیتوں اور جدید جنگی آلات کی وجہ سے شکست کھائی۔ اور اگر دیکھا جائے تو بکسر کی جنگ بنگال میں نوابی دور کی وہ آخری دیوار تھی جسے انگریزوں نے ڈھا دیا۔ بکسر کی شکست کے بعد شاہ عالم ثانی نے انگریزوں سے گفت و شنید کر کے بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کا حق کمپنی کو دے دیا اور کمپنی نے شہنشاہ کو چھبیس لاکھ سالانہ بطور خراج دینا منظور کیا۔ اس طرح انگریز اب قانونی طور پر ان صوبوں کے مالک بن گئے۔

یہ تھے وہ سیاسی حالات جن کے زیر اثر مرشد آباد میں خصوصا اور پورے بنگال میں عموماً اردو ادب اور شاعری پروان چڑھی تھی۔ مرشد قلی خان سے لے کر سراج الدّولہ تک کم و بیش حکمران ادب نواز تھے۔ مرشد قلی خان بذات خود فارسی کا شاعر تھا اور سرشار تخلص کرتا تھا۔ اس کے پیش روؤں نے بھی اپنی بساط بھر ادبی شخصیتوں کی سرپرستی کی تھی۔

اگرچہ بنگال کی زبان ہنگالی تھی اور عوامی سطح پر یہی زبان بول چال کے لیے استعمال ہوتی تھی لیکن چونکہ حکومت کی زبان فارسی اور اردو تھی اس لیے خواص کے علاوہ عوام بھی اس زبان کو اپنانے اور اہلِ حکومت کی نظر میں سرخرو ہونے کی سعی کرتے۔ خواص میں یا تو وہ لوگ تھے جو اہلیانِ حکومت کے ہمراہ شمالی ہند سے یہاں آئے تھے یا وہ جنھیں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کے لیے ان کی زبان و ادب اور تہذیب کو اپنانا پڑا تھا۔ ایک طبقہ پوری قوم کا بھی تھا جو یہاں کے مستقبل کے حکمراں ہونے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ انھوں نے بھی اس زبان اور اس کے ادب سے دل چپسی کا مظاہرہ کیا تھا۔ بہرکیف یہ حقیقت اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے کہ نوابی دور میں مرشد آباد اردو کا ایک اہم مرکز بن گیا تھا۔ اسکول مدرسوں اور کتب خانوں کے علاوہ عوام بھی اس زبان کے ادب سے دل چسپی لینے لگے تھے۔

(یوسف تقی کی مرتب کردہ کتاب "مرشد آباد کے چار کلاسیکی شعراء” سے انتخاب)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں