The news is by your side.

Advertisement

آئی جی کو ہٹانے کے معاملے پر وزیراعظم کو آگاہ کردیا گیا تھا، مرتضی وہاب

کراچی : سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وزیراعلی مراد علی شاہ وزیر اعظم کو آئی جی سندھ کے حوالے سے اپنے تحفطات سے آگاہ کرچکے ہیں، صوبائی کابینہ اراکین کو بھی ان پر اعتماد نہیں۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کے حوالے سے اپوزیشن اراکین نے پریس کانفرنس اورکافی ہنگامہ کیا ہے، کہا گیا کہ صوبائی حکومت وفاق کے بغیر کیسے فیصلہ کرسکتی ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ہم سب آئین وقانون کے تابع ہیں، غلط طور پر کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے یکطرفہ طور پر فیصلہ کیا، وفاقی اور صوبائی حکومت مشاورت کے بعد آئی جی کو واپس بلاسکتی ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کابینہ کے ارکان کا آئی جی پراعتماد نہیں رہا، اس لیے آئی جی سندھ کوتبدیل کرنے کا پراسس شروع کرنا چاہتا ہوں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جرائم بڑھنے پرحکومت کو تنقید کاسامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ کو ہی نہیں ہمیں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ آئی جی سندھ نے حکومت کی طرف سے بھیجے گئے تحریری مراسلوں کا بھی جواب نہیں دیا، کل کابینہ کااجلاس ہوا جس میں مکمل اتفاق تھا کہ آئی جی جرائم پر قابو پانے میں ناکام رہےاور اپنا اعتماد کھوچکے ہیں، لہٰذا کل فیصلہ ہوا کہ آئی جی سندھ کو رخصت پربھیج دیا جائے۔

مرتضٰی وہاب نے مزید کہا کہ آئی جی سندھ کو چھٹی پر بھیجنے کی ٹھوس وجوہات ہیں کیونکہ سی پی ایل سی کے مطابق2019میں امن وامان کی صورت حال خراب ہوئی، موٹرسائیکل ،گاڑی چوری ،ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ کراچی میں ایسا ہوتا ہے کہ پولیس شہریوں پر اسٹریٹ فائر کرتی ہے، بسمہ کا واقعہ ہوتا ہے، صفوراگوٹھ پر بچہ پولیس کی فائرنگ سےمرجاتا ہے، سندھ حکومت پولیس کی اس کارکردگی پر سوال پوچھتی ہے تو کیا ہم غلط کرتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ پولیس اپنے  اختیارات میں آزاد ہے تاہم صوبائی حکومت کو جوابدہ بھی ہے، فردوس شمیم نقوی کا یہ موقف درست نہیں ہے کہ آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں بھی آئی جیز تبدیل ہوتے رہتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب سے کوئی سوال نہیں پوچھتا نہ ہی کوئی تنقید ہوتی ہے، وہاں سب مانتے ہیں کہ سرکاری افسر تبدیل کرنا حکومت کا اختیار ہے لیکن اگر سندھ میں آئی جی تبدیل ہو تو تنقید کی جاتی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں