The news is by your side.

Advertisement

7 سال پہلے میری والدہ کے ساتھ بھی نشوا جیسا واقعہ پیش آیا تھا: مرتضیٰ وہاب کا انکشاف

پاکستان میں ڈاکٹرز پر عملی چیک کا فقدان ہے، پریکٹشنرز کے خلاف ایکشن کی روایت نہیں: بیرسٹر احمد پنسوٹا

کراچی: مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے ننھی بچی نشوا کے معاملے پر کارروائی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج ایکشن نہیں لیا تو کل سب کو بھگتنا پڑے گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نشوا معاملے پر کارروائی اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تفتیش اور ہیلتھ کیئر کمیشن رپورٹ کے بعد اسپتال کے خلاف کارروائی کی جائے گی، نشوا کے معاملے پر ایکشن نہ لیا تو کل ہم سب کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

مشیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ نشوا کیس کی مکمل انکوائری کے بعد کارروائی بہت ضروری ہے، 7 سال پہلے میری والدہ کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ان کی والدہ کے کیس میں بھی ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا تھا، آج موقع ملا ہے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے، تاکہ اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے واقعات رونما ہونے پر مذمت کرتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، لیکن ان کے روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:  نشوا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ 2 ہفتوں میں جاری ہوگی: پولیس سرجن

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ نشوا کے والد سے ملے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی خود جا کر ملے تھے، والدین کے مطالبے پر نشوا کو انصاف دلانا چاہتے ہیں، ایک ٹیم وزیر اعلیٰ سندھ نے ہیلتھ کیئر کمیشن کی بنائی تھی، دوسری ٹیم کی یقین دہانی میں کراتا ہوں جو کرمنل تفتیش میں ایف آئی آر کاٹے گی۔

دریں اثنا، پروگرام بیرسٹر احمد پنسوٹا نے بھی تکنیکی پہلو پر بات کی، انھوں نے کہا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو قوانین کا پتا ہی نہیں، غفلت کے مرتکب اسپتالوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، قتل بلا سبب کی بہ جائے قتل عمد کی شق عائد ہونی چاہیے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ڈاکٹرز پر عملی چیک کا فقدان ہے، یہاں پریکٹشنرز کے خلاف ایکشن کی روایت نہیں، میرے ایک کیس میں عدالت نے فیصلہ دیا تھا، ہیلتھ کیئر کمیشن رپورٹ پر جج نے کیس پولیس کو بھجوایا تھا۔

بیرسٹر نے کہا کہ ڈاکٹر جو قدم اٹھاتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ کیا رد عمل آئے گا، ڈاکٹرز کی غفلت پر سزا تجویز کی جانی چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں