The news is by your side.

Advertisement

احتساب ہونا چاہیے لیکن گرفتاری سے پہلے جرم ثابت کرنا بھی ضروری ہے، مرتضیٰ وہاب

کراچی : سندھ حکومت کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ احتساب ہونا چاہیے لیکن گرفتاری سے پہلے جرم ثابت کرنا بھی ضروری ہے، نیب پہلے ثابت کرے کہ جائیداد خورشید شاہ کی ہے یا نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے پی پی رہنما سید خورشید شاہ کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ اپوزیشن کے لوگوں کو انکوائری کے دوران ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ حکومتی ارکان کو انکوائری کے دوران کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا؟ یہ کیا طریقہ ہے کہ پہلے الزام لگا کر گرفتار کرلو اور5،6سال کیلئے جیل میں رکھو۔

مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے دہرا معیارنہیں ہونا چاہیے، انکوائری کے دوران ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے اور جرم ثابت نہیں ہوتا۔

آصف زرداری کے کیسز کی مثالیں عوام کے سامنے ہیں، پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے جرم پہلے ثابت کریں پھر گرفتار کرلیں، احتساب ہونا چاہیے لیکن جرم ثابت کرنا ضروری ہے، نیب پہلے ثابت کرے جائیداد خورشید شاہ کی ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں : نیب نے پی پی رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو سکھراور راولپنڈی نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پی پی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا ہے۔

نیب نے گزشتہ ماہ اگست میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کی تھیں اور آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں‌ خورشید شاہ کو سوال نامہ ارسال کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں