The news is by your side.

Advertisement

پرویز مشرف غداری کیس، جسٹس وقار احمد سیٹھ خصوصی عدالت کے نئے سربراہ مقرر

اسلام آباد : پرویز مشرف غداری کیس میں وفاقی حکومت نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو خصوصی عدالت کا نیا سربراہ مقرر کر دیا جبکہ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل رضا بشیر کی بیماری کے باعث التواء کی درخواست منظور کرلی۔

تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں وفاقی حکومت کی جانب سے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو خصوصی عدالت کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، جسٹس وقار احمد سیٹھ جسٹس طاہرہ صفدر کی ریٹائرمنٹ پر سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ہیں۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ پرویز مشرف کے وکیل رضا بشیر ڈینگی کا شکار ہوگئے اور وہ میو ہسپتال میں زیر علاج ہیں، لہذا کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔

خصوصی عدالت نے بیماری کی بنیاد پر التواء کی درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ 24 اکتوبر سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہو گی۔

عدالت نے فریقین کو تحریری دلائل آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا خصوصی عدالت ہفتے کے روز بھی سماعت کرے گی۔

مزید پڑھیں : پرویز مشرف آئین شکنی کیس میں اب کوئی التوا نہیں ملے گا،عدالت کا دوٹوک مؤقف

گذشتہ سماعت میں خصوصی عدالت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا تھا کہ اب کوئی التوا نہیں ملے گا ، کسی فریق کے وکیل نے التوا مانگا تو اس پرجرمانہ ہوگا، کیس روزانہ کی بنیاد پر چلے گا۔

سماعت میں رضا ربشیرکا کہنا تھا کہ اگر آپ مجھے موقع نہیں دیں گے تو میں کیس سے الگ ہو جاﺅں گا، آپ نے پہلے بھی وکلا کو مواقعے دیئے مجھے بھی ایک موقع دیں۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا تھا کہ ہمارے پاس آپ کی کوئی درخواست نہیں آئی، آتی بھی تو مسترد کرتے، آپ حتمی دلائل کا آغاز کریں اور وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کا کنڈکٹ عدالت کے ساتھ بہتر نہیں، آپ دلائل نہیں دے رہے توہم آرڈرمیں لکھ دیں گے آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ عدالت موقع نہیں دے رہی، جس پر رضا بشیر نے کہا کورٹ میں درخواست دینے پر معافی مانگتا ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں